
مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) 2019ء اسرائیل پربہت بھاری گزرا۔ صہیونی ریاست کئی داخلی، خارجی، معاشی اور سیاسی بحرانوں میں گھرا رہا۔ صہیونی ریاست مسلسل 3 بار انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی پارلیمان میں حکومت کی تشکیل میں ناکام رہی۔ صہیونی ریاست کے بڑے بڑے جگادری حکومت سازی کے لیے سرتوڑکوششیں کرتے رہے، مگر 1948ء میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ صہیونی ریاست میں ڈرامائی انداز میں حکومت سازی میں ناکامی کاسامنا کرنا پڑا ہے۔ 2018ء کے آخر میں اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اپریل 2019ء میں عام انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔ نیتن یاہو پرکرپشن کے الزامات اور جبری بھرتی کے قانون نے 2019ء کے دوران صہیونی ریاست کی سیاست کو لپیٹ میں لیے رکھا۔ 11 اپریل 2019ء کو ہونے والے انتخابات میں لیکوڈ پارٹی نے پارلیمانی انتخابات میں 36 نشستیں حاصل کیں، مگر نیتن یاہو حکومت سازی میں بری طرح ناکام رہے۔ اس پر نیتن یاہو نے 30 مئی 2019ء کو ستمبر میں دوسری بار انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ پارلیمان کی اکثریت نے 17 ستمبر کو دوبارہ انتخابات کرانے کی منظوری دی۔ شیڈول کے مطابق 17 ستمبر 2019ء کو پارلیمان کے دوسرے انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات میں نیتن یاہو اور ان کے اتحاد نے 30 نشستیں حاصل کیں اور ان کے حریف کے حصے میں 32 نشستیں آئیں۔ تاہم دونوں اکثریتی جماعتیں حکومت کی تشکیل میں ناکام رہیں۔ 12 دسمبر 2019ء کو پارلیمان کو تحلیل کرنے اور تیسری بار انتخابات کے لیے 3 مارچ کا اعلان2020ء کا اعلان کیا گیا ہے۔
