رسہ گیر ٗ ڈاکو اور غنڈے سیاست دانوں سے دوستیاں کرلیتے ہیں
پنجاب کے ہر شہر میں ماضی میں مافیا بیٹھا ہوتا تھا
کروڑوں کا سونا اور ڈالر برآمد ٗ خاتون سمیت 2گرفتار ایک کا رریمانڈ
سکھر ایئرپورٹ پر ملزم محمد اسلام اور خاتون انیتا ایرانی کے قبضے سے ساڑھے 4کلو سونا اور لاکھوں امریکی ڈالر بھی ملے تھے
دونوں ملزمان پی آئی اے کی پرواز سے کراچی آرہے تھے ٗ کسٹمز عدالت نے ملزم محمد اسلام کو 6جنوری تک حکام کے حوالے کردیا
فیصل آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب پولیس کو حکم دیا ہے کہ صوبے کے کسی ضلع میں کوئی ڈاکو اور مافیا نظر نہ آئے۔وزیر اعظم عمران خان نے فیصل آباد میں 2 منصوبوں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور پناہ گاہ کا افتتاح کیا۔ پناہ گاہ میں 400 کے قریب افراد کے رہنے کی گنجائش ہے اور وزیر اعظم نے وہاں مقیم افراد کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے تقریب میں سامنے بیٹھے چیف سیکریٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیف سیکریٹری صاحب اب تو آپ کے افسران کے پاس کام نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں ہوگا، امید ہے بیوروکریسی اب اچھا کام کریگی۔وزیراعظم نے تقریب میں موجود آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئی جی پنجاب کی ایک ماہ میں زبردست کارکردگی رہی، پرانے خوفناک جرائم پیشہ افراد اور قاتلوں کو جیلوں میں ڈالنے پر آپ کو مبارک باد دیتا ہوں، پنجاب کے ہر شہر میں مافیا بیٹھا ہوتا ہے، پچھلے 30 سال میں رسہ گیروں، ڈاکوؤں اور خوفناک غنڈوں سے سیاست دان دوستیاں کرلیتے تھے اور ان کے ذریعے ووٹ حاصل کرتے تھے، آئی جی صاحب مجھے آپ سے توقع ہے کہ دو تین ماہ میں پنجاب کے کسی ضلع میں کوئی ڈاکو، مافیا اور قاتل نظر نہ آئے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں اور ملک کی ترقی کیلئے پاکستان میں انڈسٹریلائزیشن (صنعت کاری) ضروری ہے، ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو روز گار نہیں ہوگا اور ملک کیسے ترقی کریگا، ہمیں صنعتوں اور برآمدات کو فروغ دینا ہے، ہم سیاحت کو فروغ دے کر بہت پیسا کما سکتے ہیں، زرعی شعبے میں بھی پیدا وار بڑھانے کی ضرورت ہے، وہ وقت بھی آئے گا جب پاکستان میں تیل کی نہریں بہیں گی۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم سارے فنکشنز پاکستان میں کرتے ہیں اور تقریر انگریزی میں کرتے ہیں، ہمیں سوچ کو تبدیل کرنا ہے اور طبقاتی تفریق کو ختم کرنا ہے، اسمبلی میں انگریزی میں تقریر کرنا غلامانہ ذہنیت ہے، مجھے پتہ ہے قومی اسمبلی میں کس کو کتنی انگلش آتی ہے، جنہیں سمجھ نہیں آتی وہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ سمجھ آرہی ہے۔

