English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت اور اپوزیشن عوام کی زندگی آسان کریں،نعیم صدیقی

آرمی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس میںدی گئی تھی جس میں آرمی چیف کی مدت اور توسیع کے حوالے سے بھی ترامیم کی گئی ہیںواضع رہے کہ 28 نومبر کو سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اگلے 6 ماہ تک پاک فوج کے سربراہ ہوں گے اور اس دوران حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے سے آرمی چیف کی توسیع اور تعیناتی پر قانون سازی کرے۔سپریم کورٹ کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا تھا جب وفاقی حکومت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف تین سال کی توسیع کی تھی۔عدالت عظمی نے تفصیلی فیصلے میں کہا تھا کہ اگر وفاقی حکومت پارلیمنٹ سے جنرل یا آرمی چیف کی مدت اور دیگر شرائط پر قانون سازی اٹارنی جنرل کی یقین دہانی کے باوجود 6 ماہ کے اندر نہیں کرے گی تو آرمی چیف کے عہدے کو مکمل طور بے ضابطہ اور ہمیشہ کے ایسا نہیں چھوڑا جاسکتا اور یہ آئینی طور پر نامناسب بات ہوگی۔ حکومت کی جانب سے اس معاملے پربڑی تیز رفتاری سے عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے آرمی ایکٹ کی ترمیم کو اتفاق رائے سے پارلیمان سے منظور کرنے کے لیے مسلم لیگ(ن) پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے رابطہ کیا ۔اس سلسلے میں وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں سینیٹ کے قائد ایوان شبلی فراز اور وزیر مملکت پارلیمانی امور اعظم سواتی پر مشتمل وفد نے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں مسلم لیگ نون کے رہنماں سابق وزیر دفاع خواجہ آصف، سابق اسپیکر اسمبلی ایاز صادق اور رانا تنویر سے ملاقا ت میں مسلم لیگ ن سے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی پر حمایت کی درخواست کی تھی۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کر کے مشاورت کا عمل مکمل اور معاملہ پارلیمان میں پیش کردیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن)کا کہنا تھا کہ لندن میں موجود پارٹی قیادت نے بل کی اتفاق رائے سے منظوری کی ہدایت دی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اس حوالے سے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع خوب سوچ سمجھ کر دی، اس معاملے میں عدلیہ نے انتظامیہ کے اختیار میں مداخلت کی، نیب ترمیم کے بعد بیورو کریسی کے پاس کام نہ کرنے کا بہانہ نہیں، پنجاب میں اب کوئی ڈاکو، قاتل یا مافیا نظر نہ آئے، عدلیہ سے ٹکرائو نہیں چاہتے، نوکریاں قرعہ اندازی سے ملیں گی۔ارکان پارلیمنٹ خود کو احتساب کا پابند بنائیں، میرے، میری اہلیہ کے اکائونٹس بھی چیک ہوئے، پاکستان کا مستقبل صنعتی ترقی سے مشروط ہے، سرمایہ دار کیخلاف مہم چلا کر صنعتی ترقی کا پہیہ روکدیا گیا، وہ وقت بھی آئیگا جب پاکستان میں تیل کی نہریں بہیں گی۔یہ باتیں انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس اور فیصل آباد میں علامہ اقبال انڈسٹریل زون کے افتتاح کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کہیں۔ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع وزیر اعظم کی صوابدید ہوتی ہے تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق فیصلہ سنایا گیا، حکومت نے عدالت کا فیصلہ من و عن تسلیم کیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں قانون سازی پر کام مکمل کیا گیا اور اب حکومت اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بعد بل کو ایوان میں لائیگی، بیوروکریٹس اور کاروباری طبقہ کو نیب سے متعلق تحفظات تھے جسکی وجہ سے ملکی مفاد میں نیب ترمیمی آرڈیننس 2019لانا پڑا۔ وزیراعظم کی تمام باتیں بہت اچھی ہوتی ہیں وہ ہمیشہ عوام کو کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہے لیکن اسوقت عوام کے حالات مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے بہت زیادہ تکلیف دہ ہیں،ملک بھر میں گیس کا بحران ہے جس کی وجہ سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔کہا جاتا ہے کہ بیس فیصد گیس چوری ہوتی ہے جسے روکنا حکومت کا کام ہے۔بجلی کی بندش سے بھی ہے لوگ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں جنھیں امید دلانا اور ملک کے مجموعی کاروباری سیاسی اور معاشی حالات میں بہتری کئلیے فوری اقدامات حکومت کا کام ہوتا ہے۔ لہذا اب حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پر بھی لازم ہے کہ وہ مہنگائی،بیروزگاری اور معیشت پر توجہ دیں تاکہ عوام کے حالات بہتر ہوں۔اس وقت مقبوضہ وادی میں بھارت کے جبر تشدد اور مسلسل کرفیو کے پانچ ماہ بعد اب ہم دیکھتے ہیں کہ جو سب سے بڑی مشکل آن پڑی ہے وہ امریکہ کا ایران کے خلاف انتہائی اقدام ہے ایرانی جنرل سلیمان کے عراق میں امریکی حملے میں جاں بحق ہونے سے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی عروج پر ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو ہمارا خطہ اور اس خطے کا کوئی بھی ملک جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔لہذا عالمی برادری پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے تیزی سے خراب ہوتے ہوئے تعلقات میں بہتری کیلئے کردار ادا کریں اور اگر کسی بھی قسم کے اختلافات یاتحفظات ہیں تو انھیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ہم نے دیکھا ہے کہ اچانک امریکہ نے اپنی ساری توجہ پاکستان کی جانب مرکوز کر دی ہے۔ہماری حکومت پر بھی لازم ہے کہ امریکہ اور ایران کے کے درمیان تنائو کو کم کرنے کے لیے تمام سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے