نئی دہلی(خبر ایجنسیاں) بھارت میں متنازع شہریت ایکٹ پر عملدر آمد کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بعد احتجاج میں شدت آگئی تفصیلات کے مطابقبھارت کے وزارت داخلہ امور نے متنازع شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019ء پر عملدرآمد کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری انیل ملک کے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ 10جنوری2020ء سے مذکورہ ایکٹ نافذ العمل ہوگیا ہے۔ دوسری جانب ملک بھر میں خصوصاً ریاست آسام میں پرتشدد مظاہروں میں شدت آگئی ہے‘ ایک درجن سے زاید ریاستوں نے اس قانون پر عمل درآمد سے انکار کردیا ہے، جن میں ریاست مہاشٹرا، دہلی، جھارکھنڈ، بہار، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، پنجاب، اوڑیسہ، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال، راجستھان اور پدو چیری شامل ہیں۔ ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے قانون ساز وکرم سینی نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو بھی شہریت کا قانون لانا چاہیے۔ انہوں نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ اپنے ملک میں شہریت کا قانون نافذ کرے اور جو مسلمان بھارت میں متنازع شہریت کا شکار ہو رہے ہیں ان کو پاکستان میں شہریت دے دیا جائے‘ پاکستان ادلا بدلی کرلے جو ہندو وہاں تکلیف میں ہیں ان کو بھارت بھیج دی جائے۔ بھارتی حزب اختلاف کی جماعت ترنمول کانگریس کی رہنما اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کا کہنا ہے کہ بھارت میں شہریت کا متنازع قانون اور شہریوں کی رجسٹریشن کا این آر سی حکمراں جماعت بی جے پی کی نفرت کی سیاست کا ایجنڈا ہے‘ یہ عوام میں پھوٹ ڈال کر سیاسی فائدہ اٹھانے کا ایک حربہ ہے تاہم یہ کامیاب نہیں ہو گا۔ انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما کپل سبل نے نئی دہلی میں مقیم15 ملکوں کے سفیروں کو سخت ترین نگرانی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرانے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کپل سبل نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران نریندر مودی سے سوال کیا کہ اگر بھارت سے باہر کے لوگ کشمیریوں سے ملنے کا حق رکھتے ہیں تو بھارتی سیاست دانوںکو کیوں ان سے ملنے سے روکا جا رہا ہے۔
بھارت میں متنازع شہریت ایکٹ پر عملدرآمد کا نوٹیفکیشن ، احتجاج میں شدت
القمر
