لاہور(آئی این پی)بنگلا دیش کرکٹ بورڈکے حکام پاکستان کے دورے سے متعلق3 آپشنز پر غور کر رہے ہیں لیکن پی سی بی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے جس کا خیال ہے کہ وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اور سیریز کیلئے تیاریاں متاثر ہو رہی ہیں،ذرائع کے مطابق احسان مانی نے واضح کردیا ہے کہ2 ٹیسٹ میچوں سے کم کوئی بات بھی قابل قبول نہیں ہوگی،دوسری جانب بنگلادیشی بورڈ کی میڈیا کمیٹی کے سربراہ جلال یونس کا کہنا ہے کہ سنجیدگی کیساتھ جائزہ لیتے ہوئے مختلف پہلوئوں پر غور کی وجہ سے کچھ وقت لگ رہا ہے ، کل ہونیوالے اجلاس میں حتمی فیصلہ کرلیں گے۔ پاکستان میں2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے حوالے سے بی سی بی کی جانب سے حیلے بہانوں سے پی سی بی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا کیونکہ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے سلسلے میں 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کی تیاریاں متاثر ہو رہی ہیں اور اگر بی سی بی کی جانب سے آج کوئی جواب دیا گیا تو شیڈول سیریز کے آغاز میں محض 6 دن کا وقت باقی رہ جائیگا جبکہ پیر کو فیصلہ کیا گیا تو5دن کے بعد بنگلا دیشی ٹیم کی میزبانی کا آغاز کرنا ہوگا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بی سی بی کے صدر نظم الحسن پاپون نے فون پر چیئرمین پی سی بی احسان مانی پر واضح کیا کہ وہ اس پوزیشن میں آ گئے ہیں کہ ان کا بورڈ کل تک اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرلے گاجس پر چیئرمین پی سی بی نے نرمی کیساتھ اپنا ٹھوس موقف دہرایا کہ ان کیلئے 2 ٹیسٹ میچوں سے کم کوئی بات قابل قبول نہیں ہوگی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ بی سی بی کے صدر نظم الحسن پاپون نے احسان مانی کو فون کال کر کے کل تک مہلت مانگی ہے جس کے بعد بنگلا دیشی ٹیم کے پاکستان ٹور کا فیصلہ کرلیا جائیگا۔ واضح رہے کہ بنگلا دیشی کرکٹ حکام 3مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں جس میں سے پہلا3 ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلنے کے فیصلے پر قائم رہا جائے جبکہ دوسرا آپشن ایک ٹیسٹ کیساتھ 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنا ہے اور آخری نکتہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی پیشکش کے مطابق 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز پہلے اورٹی 20سیریز بعد میں کھیلنا ہے۔
بنگلا دیش کے حیلے بہانے ،پی سی بی کو تشویش ،تیاریاں متاثر
القمر
