بدین (نمائندہ جسارت) نجی اسکول کے پرنسپل کا بچوں کے ساتھ جارحانہ رویہ والدین کے ساتھ تلخ کلامی کے خلاف بچوں کا احتجاجی مظاہرہ۔ بدین شہر کے وسط اور بدین پریس کلب کے نزدیک قائم نجی اسکول کے پرنسپل تعمیر حسین شاہ کی جانب سے ماہانہ فیس تاخیر سے ادا کرنے والے بچوں کو مسلسل ایک ہفتہ تک پڑھائی کی بجائے روزانہ اسکول ٹائم تک کھڑے رکھنے اور سخت زبان میں سرزنش اور توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کے خلاف زیرتعلیم بچوں نے بدین پریس کلب کے سامنے پرنسپل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور پرنسپل کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر نجی اسکول میں زیرتعلیم بچوں کے والد اور سنیئر صحافی سید اختر علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ دس سال سے میرے چار بچے مذکورہ اسکول میں زیرتعلیم ہیں جن میں سے ایک بچہ انٹر پاس کرنے کے بعد یہاں سے فارغ ہو چکا ہے جبکہ تین بچے تاحال زیرتعلیم ہیں میں اپنے بچوں کی ہمیشہ ماہانہ فیس وقت پر دیتا رہا ہوں گزشتہ ماہ بھی پانچ ہزار روپے جمع کرائے ہیں اداروں کی جانب سے تنخواہوں کی بندش کے باعث فیس کے صرف سات ہزار روپے بقایہ رہ گئے تھے جس پر اسکول کا پرنسپل تعمیرشاہ مسلسل ایک ہفتہ سے بچوں کو پڑھائی کے بجائے کھڑا رکھتا ہے دیگر بچوں کی موجودگی میں بچوں کی سخت زبان میں بار بار سرزنش اور توہین آمیز رویے اختیار رکھے ہوئے ہے جب میں مسئلے کے حل کے لیے گیا تو پرنسپل نے مجھ سے بھی تلخ کلامی اور بد تمیزی کی انتہا کر کہ میری توہین کی سید اختر شاہ نے بتایا کہ اسکول میں تدریسی اور غیر تدریسی سرگرمیوں کی مکمل سہولتیں دستیاب نہیں ہر کلاس میں صرف ایک کمپیوٹر ہے جبکہ ہر بچہ سے ماہانہ دو سو روپے فیس وصول کی جاتی ہے انہوں نے کہا مزکورہ اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو عدالت سے رجوع کے علاوہ احتجاج کیا جائے گا۔
بدین، نجی اسکول کے پرنسپل کے رویے کیخلاف طلبہ کا احتجاج
القمر
