

تہران/لندن/واشنگٹن(خبرایجنسیاں+ مانیٹرنگ ڈیسک)ایران میں حکومت مخالف مظاہرے میں شرکت کرنے پر برطانوی سفیر کو گرفتارکرلیا گیا۔ یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے پر ایران میں ہزاروں شہری متاثرین سے اظہار یکجہتی اور حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرینی طیارے کو میزائل حملے میں مار گرانے کے اعتراف کے بعد جہاں امریکا، جرمنی اور کینیڈا سمیت درجنوں ممالک میں ایران کے خلاف احتجاج کیا گیا وہیں ایران میں بھی حکومت مخالف مظاہروں شروع ہوگئے۔ان مظاہروں کے دوران ہزاروں شہریوں نے سڑکوں پر آکر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور ہلاک مسافروں کی یاد میں شمعیں روشن کیں۔دارالحکومت تہران میں سڑکیں احتجاجی مظاہرین سے بھر گئیں، مظاہرین نے بینرز اْٹھا رکھے تھے جس پر صدر حسن روحانی کے استعفے اور حکومت مخالف نعرے درج تھے۔مظاہرین سخت مشتعل اورغم وغصے میں تھے۔ایرانی اپوزیشن کے ترجمان ٹی وی چینل ایران انٹرنیشنل کی طرف سے تہران میں نکالے جانے والے جلوس کی فوٹیج دکھائی گئی جس میں لوگوں کو پاسداران انقلاب کے خلاف داعشی کے نعرے لگاتے دکھایا گیا۔مظاہرین نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ اور دیگر ایرانی عہدیداروں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔مظاہرین نے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی اور دیگر لیڈروں کی تصاویربھی پھاڑ کر پھینکیں۔ایسی ہی ایک احتجاجی تقریب میں شرکت کرنے پر تہران میں موجود برطانیہ کے سفیر روب مکائیر کو سیکورٹی اداروں نے حراست میں لے لیا۔برطانیہ سمیت عالمی قیادت نے سفیر کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ عالمی دباؤ اور مظاہرے میں شرکت سے متعلق پوچھ گچھ کے بعد سفیر کوچند گھنٹوں بعد رہا کردیا گیا۔برطانوی سفیر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ مظاہرے میں شریک ہوئے تھے۔ انہوںنے کہاکہ وہ یونیورسٹی کے باہر یوکرائنی مسافروں کے لیے ہونے والی دعائیہ تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ سفیر نے وضاحت دی کہ وہ تقریب میں شرکت کے 5منٹ ہی بعد واپس لوٹ پڑے تھے کیونکہ وہاں حکومت مخالف نعرے بازی شروع ہو گئی تھی۔ برطانوی حکومت نے اپنے سفیر کو حراست میں رکھے جانے پر تہران حکومت سے احتجاج کیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہڈومینک ریپ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ایرانی حکومت فیصلہ کن موڑ میں ہے،عالمی سطح پر پابندیوں کی وجہ سے تہران سیاسی، اقتصادی اور معاشی طور پرتنہا ہو رہا ہے، اسے مزید تنہائی کو بڑھانے یا عالمی سفارتی اصولوں کی پاسدارای کو یقینی بنانے میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا ۔ایران کی اپوزیشن جماعتوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔گرین موومنٹ کے رہنما مہدی کروبی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خامنہ ای ملک کی قیادت کے اہل نہیں رہے ہیں، انہیں عہدے سے سبکدوش ہونا پڑے گا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آپ کیسے کمانڈر انچیف ہیں کہ آپ کو یہ معلوم نہیں کہ آپ کی ماتحت فوج نے ایک مسافر جہاز کو مارگرایا؟ جنہوں نے کہ جرم کیا ہے ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور مسلسل 3دن تک دنیا کے سامنے جھوٹ کیوں بولا گیا؟۔امریکا نے کہا ہے کہ برطانوی سفیر کی گرفتاری کو سفارتی آداب کی توہین ہے، تہران اس اقدام پر برطانیہ سے معافی مانگے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فارسی میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ایرانی مظاہرین کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہم ایرانی حکومت کو مزید قتل عام کی اجازت نہیں دیں گے،ہم ایران میں مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، پوری دنیا انہیں دیکھ رہی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ پرْرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن روکا جائے، انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو مظاہرین کے خلاف کارروائی سے متعلق حقائق جاننے کے لیے رسائی دی جائے۔دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت کی طرف سے یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی کو طیارہ حادثے پر تعزیتی برقی پیغامات ارسال کیے گئے ہیں۔
