کڈھن (نمائندہ جسارت )کڈھن شہر میں دو ماہ گزر جانے کے باوجود پولیس نوجوان محمد صدیق ٹالپور کا قاتل تلاش کرنے میں ناکام ،عدالت کا پولیس کو گرفتار سوتیلے بھائی کا مزید ریمانڈ دینے کے بجائے رہا کرنے کا حکم ،ناقص تفتیش پر پولیس کی سرزنش۔ تفصیلات کے مطابق دو ماہ قبل بدین کے قصبے کڈھن کے قریبی گوٹھ میر اللہ بچایو ٹالپور میں 29 سالہ نوجوان محمد صدیق تالپور کی لاش اپنی ہی دکان کے سامنے پائی گی، مقتول کو رات گئے نامعلوم قاتل نے سر پر زوردار ضرب لگا کر قتل کیا تھا۔ کڈھن پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی پر قاتل کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ قاتل کی گرفتاری کے لیے ہونے والے احتجاج اور میڈیا پر خبروں کی اشاعت کے بعد ایس ایس پی بدین حسن سردار نیازی نے مختلف مرحلوں میںدو تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیں۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر مقتول کے سوتیلے بھائی جاوید ٹالپور کو 9 جنوری کو گرفتار کر کے تین بار جسمانی ریمانڈ حاصل کیا اور مزید چوتھی بار عدالت سے ریمانڈ طلب کرنے کے لیے گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کیا جس پر عدالت نے پولیس کی ناقص تفتیش پر سرزنش کرتے ہوئے گرفتار جاوید تالپور کو رہا کرنے کا حکم دے دیاجبکہ مقتول کے قتل کے بعد خوف حراس کے باعث مقتول کا خاندان کڈھن سے پیرالشاری منتقل ہو گیا ہے۔ مقتول کے بھائی منصف تالپور نے بھائی کے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کڈھن،6 ماہ گزر جانے کے باوجود پولیس نوجوان کے قاتل تلاش کرنے میں ناکام
القمر
