English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مہنگا آٹا بھی غائب‘ عوام پریشان۔ کوئی بحران نہیں‘ حکومت

اسلام آباد: وفاقی وزیرخسرو بختیار آٹا بحران کے حوالے سے پریس کانفرنس کررہے ہیں

کراچی/حیدرآباد/لاہور/اسلام آباد / کوئٹہ/ پشاور(اسٹاف رپورٹر+نمائندگان جسارت)ملک بھر میں مہنگا آٹا بھی غائب ہونے لگا ہے۔ کراچی ، حیدرآباد، لاہور ، اسلام آباد، کوئٹہ اورپشاور سمیت بیشتر شہروں میں مہنگوں داموں فروخت ہونے والا آٹا بھی اب ملنا مشکل ہوگیا ہے۔ عوام آٹے کے لیے دربدر پھر رہے ہیں اور دستیاب آٹے کی قیمت سن کر لوگوں کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ آٹے بحران کے بعد تندور مالکان نے بھی روٹی کا وزن کم کرنے اور قیمتیں بڑھنے کا عندیہ دے دیا ہے۔بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذخیرہ خوروں نے گندم ذخیرہ کر لی گئی ہے۔ چکیوں پر آٹا 70 روپے کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ عام مارکیٹ سے معیاری آٹا بھی نایاب ہو چکا ہے۔کراچی میں آٹے کی قیمت ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے ریکارڈ بنا رہی ہے۔ صرف 5ماہ میں 10کلو آٹے کی قیمت میں 250 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فائن ہو یا چکی 10کلو آٹے کی قیمت 700روپے تک پہنچ گئی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق گندم کی قلت کے علاوہ قیمت کے بڑھنے میں بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی کا بھی عنصر بھی شامل ہے جس کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ دکانداروں کے مطابق آٹے کی طلب زیادہ ہے مگر سپلائی انتہائی کم ہے۔ پیٹرول، ڈیزل، بجلی،گیس، سبزیوں اور پھلوں کے بعدآٹے کی قیمت میں اضافے اور بمشکل دستیابی سے شہری بلبلا اٹھے ہیں۔ غیرمعیاری آٹافروخت کرنے والوں کی چاندی ہوگئی۔غیر معیاری آٹا کھلے عام دستیاب ہے جسے شہری خریدنے پرمجبور ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ اب پیٹ کیسے بھریں، کھائیں تو کیا پکائیں تو کیا ،سارا بوجھ عام آدمی پر آرہاہے، حکومت کیا کررہی ہے۔ دوسری جانب وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ خان نے سب اچھا کی رپورٹ دینے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہیں بحران ہے تو بتائیں؟ صوبائی حکومت اب تک گراں فروشوں کے خلاف 14کروڑ کے جرمانے کر چکی ہے۔دوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں آٹے کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ شہر کے یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی آٹا غائب ہو گیا ہے۔فلور ملوں کی جانب سے ضرورت کے مطابق آٹا مہیا نہیں کیا جا رہا ہے کیوں کہ سرکاری طور پر گندم فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں آٹے کی ترسیل نہیں ہو پا رہی ہے۔ ادھر خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پنجاب حکومت سے رابطے کے بعد آٹے کی ترسیل شروع ہوگئی ہے لیکن ادھر نان بائیوں نے روٹی کی قیمت میں اضافے کا عندیہ دے دیا ہے۔نانبائی ایسوسی ایشن کے صدر خستہ گل کے مطابق ڈپٹی کمشنر پشاو نے غیر اعلانیہ طور پر انہیں 170گرام روٹی کی قیمت 15 روپے پر فروخت کی اجازت دے دی ہے تاہم جب تک نرخنامہ مقرر نہیں کیا جاتا اس قیمت پر فروخت نہیں کریں گے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈراورن لیگ کے صدر شہباز شریف نے ملک میں آٹے کے بحران پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گندم کا بحران ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کے کردار سامنے لانا ہوں گے، 16ماہ میں گندم کے ذخائر کہاں گئے، ذخائر کم تھے تو برآمد کرنے کا فیصلہ کیوں ہوا، جب ملک میں کمی تھی تو گندم اور آٹا ملک سے باہر کیوں بھیجا گیا، تحقیقات کی جائیں کہ کس کے حکم پر آٹا بیرون ملک بھجوایا گیا، قوم کو بتایا جائے کس کے حکم پر اور کس قیمت پر گندم اور آٹا برآمد ہوا۔دوسری جانب سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کی معاونِ خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میڈیا پر آٹے سے متعلق منفی پروپیگنڈا چل رہا ہے،سندھ نے بروقت گندم کی خریداری نہیں کی،اس کوتاہی کے باعث ان کے ذخیرے میں کمی پیدا ہوئی۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق خسرو بختیار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج پیر سے آٹے کی قیمتیں کم ہونا شروع ہوجائیں گی،سندھ کو روزانہ کی بنیاد پر گندم فراہم کی جارہی ہے ، پنجاب میں گندم اور آٹے کا کوئی بحران نہیں، خیبرپختونخوا کو گندم فراہمی کا کوٹہ بڑھایا جارہاہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے