English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سینیٹ میں سراج الحق کے بلز قائمہ کمیٹی کو روانہ، قراردادیں منظور

القمر

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 213 میں مزید ترمیم کے لیے سینیٹ میں پیش کردہ بل کوقانون وانصاف کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔سینیٹ میں بل پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی اور نہایت اہم ادارہ ہے جس کے 2ارکان 26 جنوری 2019 ء کو ریٹائر ہوئے اور بعد ازاں چیف الیکشن کمشنر بھی ریٹائرڈ ہوگئے ۔ حکومت کی یہ آئینی ذمے داری تھی کہ وہ 45 دن کے اندر ان ارکان کا تقرر کر کے الیکشن کمیشن کو مکمل کرتی مگر ایک سال گزرنے کے باوجود حکومت اور اپوزیشن ان ارکان کا تقرر کرنے میں ناکام رہے۔ انہوںنے کہاکہ آئینی طریقہ کار کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نے متفقہ طور پر3 نام دینے تھے لیکن اب تک اس پر بھی اتفاق رائے نہیں ہوسکا اور نہ ہی چیف الیکشن کمشنر کے نا م پر اتفاق ہو رہاہے ۔ یہ بات درست ہے کہ الیکشن کمیشن کو جلد از جلد مکمل کرنا پارلیمنٹ کی ذمے داری ہے مگر جب حکومت اور اپوزیشن متفق نہ ہورہی ہوں تو پوری پارلیمنٹ ناکا م ہوجاتی ہے ۔ انہوںنے بل میں تجویز دی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اگر پارلیمانی کمیٹی میں بھی اتفاق نہیں کر پاتے تو اس صورت میں دونوں کی طرف سے مجوزہ ناموں کی فہرست 7 دن کے اندر جوڈیشل کمیٹی کو ارسال کردہ تصور ہو گی۔جوڈیشل کمیٹی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس،2 سینئر ججزاورمتعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان پر مشتمل ہو گی۔ سینیٹر سراج الحق کی طرف سے ایک اور بل کو بھی جو کہ آئین کے آرٹیکل 45 میں مزید ترمیم کے لیے سینیٹ میں پیش کیا گیا قانون وانصاف کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔اس بل میں سراج الحق نے تجویز دی ہے کہ صدر سزائوں کو معاف کرنے کے اختیار کو حدود اور قصاص کی سزائوں میں استعمال نہیں کرے گا۔سینیٹر سراج الحق کی طرف سے پیش کردہ سرکاری اور نیم سرکاری محکموں کے ملازمین کو لازمی رہائش گاہیں مہیا کرنے کی قرارداد کو سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیاجبکہ موٹروے پر ٹول ٹیکس میں10 فیصد اضافے کے خلاف قرارداد کو حکومت کی مخالفت کی بنا پرمنظور نہیں کیا جا سکا۔سینیٹر سراج الحق کی طرف سے سینیٹ سے نجی سود کے خاتمے کے بل کو قومی اسمبلی نے 90 دن میں منظور نہیں کیا تھا لہٰذا ان کی طرف سے نوٹس دیا گیا کہ اس بل کو مشترکہ سیشن میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔قرارداد کو ایوان نے منظور کرتے ہوئے بل کو مجلس شوریٰ(پارلیمنٹ) کو بھیج دیا۔سینیٹر سراج الحق کی طرف سے پاکستان ریلوے کی گزشتہ ایک سال کی کارکردگی پر بحث کے بعد وفاقی وزیر نے پالیسی موقف دیا اور اس قرارداد کو نمٹا دیا گیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے