English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان سی پیک میں شمولیت پر نظر ثانی کرے،امریکا

القمر

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں) امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر اپنی تنقید دوہراتے ہوئے اسلام آباد سے اس میں شمولیت کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا کہا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تھنک ٹینک کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر تنقید کی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی پیک منصوبوں میں شفافیت نہیں، پاکستان کا قرض چینی فنانسنگ کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ان کا یہ بیان اس سے قبل 21 نومبر 2019 کو واشنگٹن کے ولسن سینٹر میں دیے گئے ریمارکس جیسا ہی تھا تاہم اسلام آباد کے دورے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارت بڑھانے اور سرمایہ کاری پر مبنی تعلقات بنانے پر زور کے بعد ان کا دوبارہ یہ دعویٰ اب مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔سی پیک پر الزامات لگاتے ہوئے ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں کو سی پیک میں کنٹریکٹس ملے ہیں۔امریکی سفیر نے حال ہی میں قائم کی جانے والی سی پیک اتھارٹی کو مقدمات سے ا ستثنا ہونے پر بھی سوالات اٹھائے۔قرضوں کے مسئلے پر ایلس ویلز نے زور دیا کہ چینی پیسے معاونت نہیں کر رہے۔ان کا کہنا تھا کہ منصوبوں کے لیے چین سے فنانسنگ حاصل کرکے پاکستان مہنگے ترین قرضے حاصل کر رہا ہے اور خریدار ہونے کے ناطے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کر رہا ہے کیونکہ اس سے ان کی پہلے سے کمزور معیشت پر بھاری بوجھ پڑے گا۔امریکی سفیر نے ریلوے ایم ایل 1 منصوبے کی لاگت میں اضافے پر بھی بات کی، جو کراچی سے پشاور کو جوڑتا ہے۔انہوں نے حکومت سے بڑے منصوبوں پر شفافیت دکھانے کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ ایلس ویلز دورہ بھارت اور سری لنکا کے بعد چار روزہ دورے پر دو روز قبل پاکستان پہنچی تھیں۔دوسری جانب پاکستان میں چینی سفارت خانے نے کہا ہے کہ امریکا کو پاک چین تعلقات پر الزامات لگانے سے قبل غور کرنا چاہیے کہ اس نے پاکستان کو دیا کیا ہے۔پاکستان میں چینی سفارتخانے نے امریکی نائب سیکرٹری جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایلس ویلز نے ایک مرتبہ پھر سی پیک کے حوالے سے منفی ردعمل دیا، ان کے منفی بیان میں کوئی نئی بات نہیں جسے پاکستان اور چین دونوں مسترد کر چکے ہیں، امریکا اب تک سی پیک پر اپنی بنائی ہوئی کہانی پر قائم ہے۔سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے ہمیں امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر خوشی ہے لیکن پاک چین تعلقات اور پاک چین اقتصادی راہداری میں امریکی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ پاکستان اور چین سی پیک منصوبوں میں باہمی مشاورت اور مشترکہ مفاد کے لیے باہمی تعاون کے لیے پرعزم ہیں، ہم پاکستانی عوام کے مفادات کو سب سے پہلے رکھتے ہیں، سی پیک پاکستان کی معاشی و سماجی ترقی اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سی پیک میں شامل تمام کمپنیاں بین الاقوامی تشخص رکھتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر قابل قبول بزنس ماڈل کے تحت کام کرتی ہیں، یہ کمپنیاں اسٹیٹ آف آرٹ ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کی سختی سے پابندی کرتی ہیں،یہ تمام طریقہ کار کھلا، شفاف اور بین الاقوامی قوائد و ضوابط کے تحت ہوتا ہے۔پاکستان کو دیے گئے چینی قرض کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا قرضہ جات سے متعلق مسلسل مبالغہ آرائی کررہا ہے، پاکستانی اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے تحت پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 110 ارب امریکی ڈالرز ہے، پاکستان کو قرض دینے والوں میں عالمی مالیاتی فنڈ اور پیرس کلب سمیت دیگر عالمی مالیاتی ادارے سر فہرست ہیں، سی پیک کے لیے کل قرضہ 5.8 ارب امریکی ڈالرز ہے جو کہ پاکستان کے کل بیرونی قرضہ جات کا 5.3 فیصد ہے۔ یہ چینی قرضہ 20 سے 25 برس کے دورانیہ 2 فیصد شرح سود پر دوبارہ ادائیگیوں کے آپشن رکھتا ہے، چینی قرضہ جات کی ری پیمنٹس 2021 میں شروع ہو گی، 300 ملین ڈالرز کی سالانہ کی ادائیگی پاکستان کے لیے بوجھ نہیں ہوگی۔ امریکا کو الزامات لگانے سے قبل اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ کیا کیا؟ اور پاکستان کو کیا دیا؟ اگر امریکا کو واقعی پاکستان کا خیال ہے تو اسے باہمی تعلق استوار کرنے کے لیے پاکستان کو فنڈز دینے چاہییں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے