ٹنڈوالہٰیار (نمائندہ جسارت) سندھ بھر سمیت ٹنڈوالہٰیار اور حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں انتظامیہ کے چھاپوں، جرمانوں اور گندم نہ ملنے کی وجہ سے درجنوں چکیاں بند ہو گئی ہیں اور آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔سرکاری گندم کی قلت اور انتظامیہ کے چھاپوں کی وجہ سے سٹی ،لطیف اباد قاسم اباد اور دیگر علاقوں میں بہت سی چکیاں بند ہو گئی ہیں ،محکمہ خوراک نے آٹا چکیوں کے فی پتھر یومیہ گندم کوٹہ میں معمولی سا اضافہ تو کر دیا ہے لیکن چکی مالکان کا کہنا ہے کہ سرکاری رعایتی گندم کا کوٹہ چکیوں کی طلب کے لحاظ سے 8 فیصد سے بھی کم ہے اس لیے وہ کھلی مارکیٹ سے 5200 روپے فی 100 کلو کی مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہیں اور اس صورت میں یہ ممکن نہیں کہ آٹا 52 روپے فی کلو فروخت کیا جائے، چکی مالکان کا کہنا ہے کہ وہ انتظامی حکام کے چھاپوں اور جرمانوں کی وجہ سے چکیاں بند کرنے پر مجبور ہورہے ہیں، جس سے آٹے کے بحران میں اضافہ ہوگا اور قیمتیں بھی بڑھیں گی۔ اس لیے چھاپوں کے بجائے چکیوں کی طلب کے مطابق سرکاری گندم کا کوٹہ فراہم کیا جائے۔ ادھر رولر فلور ملز جنہیں بھولاری فوڈ گرین گودام سے گندم دی جارہی تھی، اب انہیں حالی روڈ فوڈ گرین گودام سے بھی گندم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم معلوم ہوا ہے کہ ان گوداموں میں گندم کا ذخیرہ کم رہ گیا ہے۔ چکی مالکان کا کہنا ہے کہ فی پتھر یومیہ 2400 سو کلو کی طلب کے مقابلے میں انہیں محض 7.25 فیصد سرکاری گندم کوٹہ جاری کیا جارہا ہے جو نا انصافی ہے اور کھلی مارکیٹ سے مہنگی گندم خرید کر تیار کیا گیا آٹا سرکاری قیمت پر فروخت کرنا کیسے ممکن ہے۔ چکی مالکان کے مطابق چکیوں کو فی پتھر یومیہ صرف 140 کلو گندم جاری کرنے کے مقابلے میں رولر فلور ملز کو روزانہ تقریباً 50 ہزار کلو سرکاری گندم جاری کی جاتی ہے اور پھر بھی چھاپے آٹا چکیوں پر ہی مارے جارہے ہیں، اس طرح ہمیں چکیاں بند کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
اندرون سندھ، چھاپوں، جرمانوں اور گندم نہ ملنے سے درجنوں چکیاں بند
القمر
