نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر میں فوج کی جانب سے کی گئی گولہ باری میں 2 خواتین جاں بحق اور 7 افراد زخمی ہوگئے۔ فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہلاکتیں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں ہوئیں۔ فوجی ترجمان نے بتایا کہ شمالی ریاست راکھین میں کارروائی کے دوران بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا،جن کی زدمیں آکر ایک خاتون موقع ہی پر ہلاک ہو گئی اور دوسری نے اسپتال میں دم توڑدیا۔ترجمان نے خواتین کی ہلاکت کی ذمے داری روہنگیا عسکریت پسندوں پر عائد کی۔ دوسری جانب روہنگیا عسکریت پسند تنظیم اراکان آرمی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کی میانمر کی فوج کے ساتھ کوئی لڑائی یا جھڑپ نہیں ہوئی، میانمر فوج کے الزام جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد ہیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے میانمر کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کی حفاظت یقینی بنائے اور ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ عدالت کا کہناتھا کہ حکومت مسلمان اقلیت کے خلاف کیے گئے جرائم کے تمام ثبوت بھی احتیاط سے محفوظ کرے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے یہ فیصلہ افریقی ملک گیمبیا کی طرف سے دائر کیے گئے مقدمے کی سماعت کے بعد دیا۔ گزشتہ برس نومبر میں گیمبیا نے اقوام متحدہ کے 1948ء کی ایک شق کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے میانمر کے خلاف دعویٰ کیا تھا کہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک کی حکومت ملک میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی مرتکب ہوئی۔ میانمر کی ریاست راکھین کا شمالی علاقہ2017 ء میں میانمر کی فوج کے کریک ڈاؤن کا نشانہ بناتھا،جس کے نتیجے میں 7لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچا کر بنگلادیش کی جانب ہجرت کر گئے تھے۔
میانمر :فوج کی گول باری،2 روہنگیا خواتین شید
القمر
