ایک مخصوص گروپ دو سیاسی جماعتوں کا نام استعمال کرکے کچھ اداروں کے افسران کی مدد سے بیش قیمت عمارتوں پر قبضے کر کے پروجیکٹ بنانے میں مصروف ہے
ایف بی آر نے طارق روڈ پر 25 کروڑ روپے مالیت کی 2 جائیدادوں کو منجمد کرادیا، پی ای سی ایچ ایس کمرشل ایریا کی دو جائیدادوں کو بے نامی اثاثے قرار دے کر فریز کردیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایف بی آر نے بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات شروع کردی، بلڈرز، انوسٹرز کے خلاف انکوائری کے علاوہ مذکورہ جائیدادوں پر قبضہ کرنے والے لینڈ مافیا گروپ کے خلاف بھی معلومات جمع کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک مخصوص گروپ دو سیاسی جماعتوں کا نام استعمال کرکے کچھ اداروں کے افسران کی مدد سے بیش قیمت عمارتوں پر قبضے کرنے میں مصروف ہے جن پر بعدازاں پلاٹوں کو ملا کر پروجیکٹ بنائے جارہے ہیں جس میں کئی افراد اپنا کالا دھن لگا کر مزید منافع کما رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایف بی آر ڈائریکٹوریٹ اینٹی بے نامی کراچی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے پوش علاقے طارق روڈ پر 25 کروڑ روپے مالیت کی دو جائیدادوں کو منجمد کرا دیا، پی ای سی ایچ سوسائٹی کمرشل ایریا بلاک ٹو کی دو جائیدادوں کو بے نامی اثاثے قرار دے کر منجمد کیا گیا ہے جس کے بعد اینٹی بے نامی ایکٹ کے تحت ان جائیدادوں کی خرید و فروخت اور ٹرانسفر غیر قانونی قرار پائے گا، اس ضمن میں ایف بی آر کراچی کے ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے متعلقہ اداروں کو بھی خطوط ارسال کر دیے گئے ہیں کہ ان جائیدادوں کے حوالے سے بے نامی ایکٹ کے تحت انکوائری کی جارہی ہے اور ان پر ایڈجیو ڈی گیشن اتھارٹی اسلام آباد میں ریفرنس دائر کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق جن اثاثوں کو بے نامی قرار دے کر کارروائی کی گئی ہے ان میں طارق روڈ کے قریب قائم کمرشل ایریا بلاک ٹو کے پلاٹ نمبر C-167 اور C-168 شامل ہیں۔ ان جائیدادوں کے حوالے سے اینٹی بے نامی ڈائریکٹوریٹ کراچی کو ٹھوس ثبوت ملے ہیں کہ دونوں پلاٹوں کو ملا کر ایک پروجیکٹ قائم کیا گیا ہے جوکہ بے نامی ہے اور اس کے بلڈر، انوسٹر کے خلاف تحقیقات کے علاوہ اسی انکوائری میں مذکورہ جائیدادوں پر قبضہ کرنے والے لینڈ مافیا گروپ کے خلاف بھی معلومات جمع کی جارہی ہیں جن میں معلوم ہوا ہے کہ ایک مخصوص گروپ دو سیاسی جماعتوں کا نام استعمال کرکے کچھ اداروں کے افسران کی مدد سے اس علاقے میں ایسی بیش قیمت عمارتوں پر قبضے کرنے میں مصروف ہے۔ اس گروپ میں اب تک جو نام سامنے آئے ہیں ان کے نام پر موجود دیگر اثاثوں اور ان کے انویسٹرز کے اثاثوں کی چھان بین بھی شروع کر دی گئی ہے۔

