نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) بچوں کی فلاح و بہود سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مغربی اور شمال وسطی افریقاکے ساحلی خطے میں بچوں کے خلاف تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ساحلی خطے میں گزشتہ برس سیکڑوں بچوں کو ہلاک اورزخمی کیا گیا، جب کہ کئی بچوں کو ان کے والدین سے چھین لیا گیا۔ یونیسف نے خبردار کیا کہ موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے خطے میں جاری تنازع کو ختم کرنے کے آثار کم ہیں اور ہنگامی طور پر 50لاکھ بچوں کے لیے انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2019ء کے ابتدائی 9ماہ کے دوران مالی میں 277 بچوں کو جسمانی طور پر ناکارہ بنایا گیایا انہیں مار دیا گیا۔ مغربی افریقی ملک مالی کے شمالی علاقے میں 8برس قبل عسکریت پسندوں نے کی جانب سے بغاوت شروع ہوئی تھی، جس میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ لڑائی اب پڑوسی ملک برکینا فاسو اور نائیجر تک پھیل گئی ہے، جس کی وجہ سے اب ساحل خطے میں نسلی کشیدگی پھیل رہی ہے۔ اس کے علاوہ چرواہوں اور قبائل کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے باعث بھی بچے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس دوران بڑی تعداد میں بچوں کو زبردستی ان کے والدین سے چھینا گیا اور لاکھوں لوگوں کو اپنا گھر بار بھی چھوڑنا پڑا۔ یونیسف کے مطابق مالی، برکینا فاسو اور نائیجر جیسے ممالک میں 7لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور 50 لاکھ بچوں کو انسانی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ مغربی اور مرکزی افریقی خطے کے لیے کی سربراہ میری پیئر پویریئر کا کہنا تھاکہ ہم متاثرہ معصوموں کی کوئی مدد نہیں کرپارہے۔ ساحلی خطوںمیں تو لاکھوں بچے ذہنی صدمات سے دوچار ہیں۔
افریقا ،بچوں پر تشدد میں تشویشناک اضافہ ،لاکھوں دربدر
القمر
