English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت،مسلمانوں کو زندہ جلانے والے 17 مجرم رہا

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی عدالت عظمیٰ نے گجرات میں 2002ء کے مسلم کش فسادات کے دوران 22 خواتین سمیت 33 مسلمانوں کو زندہ جلانے والے 17 انتہا پسند ہندوؤں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ان تمام دہشت گردوں کو مسلم کشی کا کا الزام ثابت ہونے پر گجرات کی عدالت عالیہ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف مجرموں نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کررکھی تھی۔ گزشتہ روز چیف جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس بی آر گوائی اور سوریا کانت پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آزادی ملنے کے بعد ان مجرموں میں سے کوئی بھی گجرات میں نہیں رہے گا بلکہ انہیں مدھیہ پردیش کے 2 شہروں جبل پور اور اندور میں رہنا ہوگا۔ رہا ہونے والے تمام افراد ہفتے میں صرف 7 گھنٹے کے لیے عوامی خدمات انجام دیں گے اور ہر ہفتے مقامی پولیس اسٹیشن میں اپنی موجودگی کی اطلاع دیں گے۔ عدالت جبل پور اور اندور میں ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹیز کو ہدایت بھی کی کہ وہ ان تمام رہا ہونے والے مجرموں کے لیے مناسب روزگار کا بھی بندوبست کرے تاکہ یہ لوگ اپنی ضروریات خود پوری کر سکیں۔ عدالتی بینچ نے دونوں علاقوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ مجرموں پر نظر رکھیں۔ بظاہر اس فیصلے میں گجرات کے مسلم کش فسادات میں سزا یافتہ افراد کو مشروط ضمانت دی گئی ہے تاہم درحقیقت یہ ایسی آزادی ہے جس میں ان پر پابندیاں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ واضح رہے کہ گجرات فسادات کے دوران ہندو انتہا پسندوں نے احمد آباد شہر اور نواحی قصبوں میں مسلمانوں پر حملے کیے تھے، جن میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جس کے بعد 76 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں سے 31 افراد کو عدالت نے مجرم قرار دیا جبکہ گجرات کی عدالت عالیہ نے بعد ازاں 14 افراد کو بری کردیا تھا۔ فسادات کے وقت بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے