English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سعودی عرب: ہر گھنٹے میں 7 طلاقیں ہونے لگیں‘ سروے

القمر

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب میں وژن 2030ء کے تحت خواتین کو آزادی دینے کی تحریک کے نتیجے میں طلاقوں کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا۔ سعودی عرب میں کیے جانے والے تازہ سروے کے مطابق ہر گھنٹے میں 7جب کہ ملک بھر میں یومیہ 168 طلاقیں ہو رہی ہیں۔ قبل ازیں اگست 2019ء میں کیے گئے سروے سے معلوم ہوا تھا کہ سعودی عرب میں ہر گھنٹے میں 5 طلاقیں ہو رہی ہیں۔ سعودی گزٹ کے مطابق سروے سے معلوم ہوا تھا کہ 84 فیصد علاحدگیاں زوجین کے درمیان بات چیت نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ سروے میں انکشاف کیا گیا کہ اس عمل میں زیادہ تر نوجوان جوڑے پیش پیش ہیں۔ سروے میں بتایا گیا تھا کہ 81 فیصد طلاقیں شوہر یا بیوی کے اہل خانہ کی جانب سے ذاتی زندگی میں مداخلت کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ زوجین کی جانب سے ایک دوسرے کو توجہ نہ دینا بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ محض 6ماہ کے اندر طلاق کی شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ میں طلاق کی بڑھتی شرح کو معاشرے کے لیے کینسر قرار دیا گیا،جس سے سب سے زیادہ نقصان زوجین کے بچوں اور ملکی معیشت کو ہو رہا ہے۔ حکومت شادی کے لیے قرض بھی فراہم کرتی ہے، جو 24لاکھ روپے تک ہوتا ہے۔ طلاق کی وجہ سے اس قرض کی واپسی مشکل ہوتی جارہی اورملکی معیشت کا سالانہ 3 ارب ریال نقصان ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں طلاق اور خواتین کی جانب سے شادی کو غیر اہم سمجھنے کے عمل میں 5سال کے دوران اضافہ ہوا ہے اور اسی عرصے میں سعودی حکومت نے وژن 2030ء کے تحت خواتین کو زیادہ خودمختاری کی تحریک شروع کی ہے۔ سماجی ماہرین پریشان ہیں کہ سعودی معاشرے کے سیکولر ہونے سے خاندانی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے