

ریاض /اسلام آباد/انقرہ/قاہرہ /مقبوضہ بیت المقدس(خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب نے ٹرمپ منصوبے کو خوش آئندہ قراردے دیا ہے۔سعودی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل فلسطینی تنازعے کے حل کی کوششوں کی ’قدر‘ کرتے ہیں۔انہوں نے ساتھ ہی اسرائیل فلسطینیوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے آغاز کا بھی مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکی صدر کی طرف سے تجویز کیے گئے منصوبے کے بارے میں اگر کوئی عدم اتفاق ہے تو اسے امریکی سرپرستی میں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے ”تاہم امن عمل پر آگے بڑھا جائے تا کہ ایک ایسا معاہدہ طے پا سکے جس میں فلسطینی عوام کے جائز حقوق حاصل کیے جا سکیں۔ سعودی شاہ سلمان نے فلسطینی صدر محمود عباس کو ٹیلی فون کیا اور فلسطینی عوام اور فلسطین کے معاملے پر سعودی عرب کے دوٹوک مؤقف کو دہرایا۔ادھرپاکستان نے عالمی معیار اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کردیا۔ ترجمان دفترخارجہ نے امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی ہمیشہ حمایت کی ہے،پاکستان مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے فلسطین کے مسئلہ کے منصفانہ اور پائیدار حل کی حمایت کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے فلسطینیوں کے جائز حقوق کی فراہمی چاہتا ہے۔دوسری جانب امریکی منصوبے کے خلاف غزہ میں مغربی کنارے پر ہزاروں فلسطینی نے احتجاج کیا ۔ اس موقع پرٹائر نذرآتش کیے اور ‘ٹرمپ بے وقوف ہے’ کے نعرے لگائے۔مظاہرین نے کہا کہ امریکی منصوبہ ”تاریخ کے کوڑے دان‘‘ میں جانے کے قابل ہے۔فلسطین کے صدر محمود عباس نے ٹرمپ کے امن منصوبے کو ’’صدی کا تھپڑ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔انہوںنے اسرائیلی زیرتسلط مغربی کنارے میں رمل اللہ میں ٹیلی ویژن پر خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ میں ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن سے کہوں گا کہ یروشلم فروخت کے لیے نہیں، ہمارے کوئی حقوق فروخت کے لیے نہیں اور ہم بارگین کے لیے نہیں ہیں اور آپ کی ڈیل اور سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی صرف عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی حمایت کی بنیاد پر مذاکرات کو تسلیم کرے گا۔حماس کے رہنماسمیع ابو ظہری نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا بیان جارحانہ ہے اور یہ غصے کو مزید بڑھائے گا۔انہوں نے کہا کہ یروشلم سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان بکواس ہے اور بیت المقدس ہمیشہ فلسطینیوں کی زمین رہے گا، فلسطین اس منصوبے کا مقابلہ کریں گے ۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ پلان کیخلاف ترکی کے مختلف شہروں میں سیکڑوں افراد احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ انقرہ میں امریکی سفارتخانے اور استنبول میں امریکی قونصل خانے کے باہر سیکڑوں مظاہرین نے امریکا اور ٹرمپ مخالف نعرے لگائے۔ترک صدر رجب طیب اردون نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کرنا کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔اردن میں بھی سیکڑوں افراد نے امریکی سفارخانے کے باہر صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ پلان کے خلاف احتجاج کیا۔ ایران نے بھی اس منصوبے کو مکمل طور پرمسترد کر دیا۔صدر حسن روحانی کے مشیر کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں فلسطین کہیں بھی نہیں ہے، یہ امن نہیں بلکہ پابندیوں کا منصوبہ ہے۔ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے پلان کو مشرق وسطیٰ اور دنیا کے لیے ڈراؤنا خواب قراردیا۔ادھر عرب لیگ نے ٹرمپ منصوبے پر غور کے لیے یکم فروری کو ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ دوسری جانب جرمنی کے وزیرخارجہ ہیکو ماس کا کہنا ہے کہ صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ برطانوی سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب نے تجویزکو سنجیدہ قرار دیا۔
