مانسہرہ (اے پی پی) مدرسے کے بچے سے زیادتی کیس میں مرکزی ملزم قاری شمس الدین کو پناہ دینے اور گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے پر جے یو آئی کے رہنما مفتی کفایت اللہ اور ملزم کے بھائی عبدالمالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس افسر صادق بلوچ کے مطابق 10 سالہ بچے یاؤس سے زیادتی کے ملزم قاری شمس الدین کو اس کے بھائی عبدالمالک اور مفتی کفایت اللہ نے پناہ دی، اور ملزم کی گرفتاری کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے 3 روز تک اپنی نگرانی میں روپوش رکھا گیا تاہم پولیس نے معاملے کی چھان بین کے بعد مفتی کفایت اللہ اور ملزم کے بھائی عبدالمالک کے خلاف سہولت کاری کے تمام ثبوت حاصل کرلیے اور ساتھ ہی انکوائری کے لیے جے آئی ٹی قائم کی، مفتی کفایت اللہ کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے پورا موقع فراہم کیا مگر وہ اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہے اور دوران تفتیش زیادتی کے مرکزی ملزم قاری شمس الدین نے بھی اس بات کا اقرار کیا کہ وہ فوری گرفتاری دینا چاہتے تھے مگر مفتی کفایت اللہ اور میرے بھائی عبدالمالک نے یہ کہہ کر مجھے روکا کہ ہم میڈیا کے سامنے آپ کو بے گناہ ثابت کر دیں گے۔ تمام شواہد اکٹھے کرنے کے بعدپولیس کو ملزم کی گرفتاری سے دور رکھنے اور سرکاری کام میں غیر ضروری رکاوٹ ڈالنے پر مفتی کفایت اللہ اور ملزم قاری شمس الدین کے بھائی عبد المالک کے خلاف 255/34 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ دوسری جانب جے یو آئی کے رہنما مفتی کفایت اللہ نے اپنے موقف میں مقدمات کو اپنے خلاف سازش قرار دیا ہے۔
مانسہرہ: بچے سے زیادتی کے ملزم کو پناہ دینے پر جے یو آئی رہنما کیخلاف مقدمہ
القمر
