حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) ہلال احمر کی مقامی کابینہ میں اختلافات اورصوبائی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث بالآخر حیدرآباد میں ہلال احمر کا امراض قلب کا اسپتال بند ہوگی‘ ایم ایس کے بعد ڈاکٹرز نے بھی استعفیٰ دے دیا‘ایک ہفتہ قبل جسارت نے اسپتال کے مالی بحران اور ایم ایس ڈاکٹر فضل الرحمن کے استعفیٰ ، آئی سی یو ، انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی بند، ہونے کی خبر سب سے پہلے شایع کی تھی جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اگر صوبائی انتظامیہ نے مالی بحران کا قابو نہ پایا تو اسپتال بند ہوجائے گا لیکن اس کے باوجود ہلال احمر کی صوبائی انتظامیہ امراض قلب کے اسپتال سے لاپروائی کی جس کے بعدحیدرآباد میں امراض قلب کا اسپتال بند ہوگیا،جبکہ لطیف آباد کی5لاکھ سے زاید آبادی کے لیے واحد امراض قلب کا اسپتال تھا، حیدرآباد میں ہلال احمر کے زیر انتظام لطیف آباد یونٹ نمبر2میں واقع امراض قلب کا جدید اسپتال بند ،ہلال احمر کی حیدرآباد کی باڈی میں شدید اختلافات کے بعد ہلال احمر سندھ کی انتظامیہ نے حیدرآباد میں قائم ہلال احمر کے 3اسپتالوں کا انتظام سنبھال لیا تھا جبکہ حیدرآباد کے مخیر حضرات اور اسپتال کے ارکان صوبائی انتظامیہ پر زور دے رہے تھے کہ ڈویژنل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کی زیر نگرانی ہلال احمر کی باڈ ی کا شو آف ہینڈز کے طریقہ کار کے مطابق انتخاب کرالیں اور لطیف آباد سمیت حیدرآباد کے باشندوں کے لیے انتہائی ارزاں قیمت پر دل کا علاج کرنے والے اسپتال کو متاثر نہ کیا جائے لیکن صوبائی انتظامیہ نے غیر متعلقہ لوگوں کو اسپتال کا نگراں بنادیا جو اسپتال کی صورتحال کو سمجھنے ، فنڈز لانے، ادویات کا انتظام کرنے سے قاصرر ہی جس کے بعد ہلال احمر کے حیدرآباد میں قائم تینوں اسپتال شدید مالی بحران کا شکار ہو گئے بالخصوص دل کا اسپتال جہاں حسا س مریضوں کی بڑی تعداد روزانہ کی بنیادپر آتی ہے ان کے لیے ایکسرے ، ای سی جی ، انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی بند ہو گئی اور جان بچانے والی دوائیاں اور انجکشن بھی ختم ہو گئے ،اسپتال کے ڈاکٹرز و عملے کی گزشتہ ماہ کی تنخواہ زکوٰۃ فنڈز سے ادا کی گئی اس صورتحال سے دلبرداشتہ ہو کرایم ایس ڈاکٹر فضل الرحمن نے استعفا دے دیا جس کو ہلال احمر کی صوبائی انتظامیہ نے بغیرکسی ہچکچاہٹ منظور کرلیا اور ڈاکٹر فضل الرحمن کو 31جنوری سے چارج چھوڑنے کا حکم دیتے ہو ئے ڈاکٹر فیروز احمد شیخ کو قائم مقام ایم ایس مقرر کیا لیکن ان سمیت اسپتال کے تینوں سینئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر فیروز شیخ اور ڈاکٹر شوکت میمن نے بھی استعفا دے دیا جبکہ اسپتا ل کے دیگر ڈاکٹرز اور عملہ نے بھی کام کرنے سے انکار کرتے ہو ئے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے اس صورتحال کے بعد اسپتال بند ہو گیا ہے اور داخل مریض دیگر اسپتالوں میں منتقل ہو گئے ہیں اسپتال بند ہو نے پر عوام کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی اور ہلال احمر کی صوبائی انتظامیہ کے خلاف سخت غم و غصہ کا اظہار کیا کیونکہ یہ لطیف آباد کا واحد امراص قلب کا اسپتال تھا جبکہ حکومت کی جانب سے لطیف آباد میں امراض قلب کے حوالے کوئی اسپتال نہیں ہے بھٹائی اسپتال میں سہولیات نہ کافی ہیں ۔
انتظامی اختلافات ،ہلال احمر کا امراض قلب اسپتال بند
القمر
