English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزیراعظم کے وعدے کے باوجود آئی جی سندھ نہیں بدلا گیا بلاول بھٹو

حکومت نے آج کا اجلاس آرڈیننس پاس کروانے کیلئے وقت سے پہلے بلایا ‘صدر ہاؤس آرڈیننس کی فیکٹری بنا ہوا ہے
جو قانون دوسرے صوبوں کیلئے استعمال کرتے ہیں وہی سندھ کیلئے بھی ہونا چاہیے،ہر چیز کرکٹ کاکھیل نہیں ہوتی، میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے وعدے کے باوجود آئی جی سندھ نہیں بدلا گیا۔ حکومت نے آج کا اجلاس آرڈیننس پاس کروانے کیلئے وقت سے پہلے بلایا گیا ہے۔ صدر ہاؤس آرڈیننس کی فیکٹری بنا ہوا ہے۔پی ٹی آئی کا دھرنا جمہوریت جبکہ اپوزیشن کا دھرنا غداری ہے ایک پاکستان میں ایک نہیں دو پاکستان ہیں،اسلام آباد کے آئی جی کو فون نہ سننے پر تبدیل کر دیا جاتاہے، جبکہ سندھ کے آئی جی کے تبدیلی کیلئے پانچ نام فائنل ہونے کے باوجود تعیناتی نہیں کی جاتی جو قانون دوسرے صوبوں کیلئے استعمال کرتے ہیں وہی سندھ کیلئے ہونا چاہیے ہر چیز کھیل کر کرکٹ نہیں ہوتی ہمارا مطالبہ ہے کہ بھیجے گئے پانچ ناموں میں سے فوری طور پر سندھ کا آئی جی لگایا جائے ٹیکس ایمنسٹی صرف ارب پتی لوگوں کیلئے ہوتی ہے لیکن کسانوں کے لئے کوئی بیل آوٹ پیکج نہیں ہوتا،آئی جی کی تبدیلی کے حوالے سے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے درمیان بات ہوتی ہے یہی قانونی طریقہ کار ہے ،ان خیالات کا اظہارپارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب سے حکومت آئی ہے اس کا رویہ درست نہیں ہے موجودہ سیشن مہنگائی فوڈ سیکورٹی پر نہیں بلایا گیا ، صرف آرڈینس میں ترامیم کیلئے بلایا گیا ہے ترامیم کے لئے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ڈبیٹ ہوتی ہے لیکن حکومت کا رویہ جمہوری نہیں ہے صدر ہاوس آرڈینس کی فیکٹری بنا ہوا ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر سیاسی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے محسن داوڑ اور علی وزیر احتجاج کر رہے تھے محسن داوڑ کو گرفتار کیا گیا اور مقدمات بنائے گئے اس کی ہم مذمت کرتے ہیں اگر ان کے بیانات پر کسی کو اعتراض ہے تو اس کا جواب دیا جانا چاہئے آج اسمبلی میں کہا گیا کہ محسن داوڑ پہلے معافی مانگیں لیکن مجھے نہیں پتا انہوںنے کیا بیان دیا تھا، حکومت نے ان کے بیان پر سنسر شپ لگائی ہوی ہے فاٹا سے آنے والے اراکین کو بولنے کا حق ملنا چاہئے جنہوں نے دہشت گردی کا سامنا کیا افغان وار کے دوران فاٹا کے نوجوانوں نے بہت قربانیاں دیں۔جن علاقوںمیں آپریشن ہوا وہاں کی عوام کو فوری طور پر بحال کیا جانا چاہئے تھا پاکستان پیپلزپارٹی نے فاٹا کے عوام کی ڈیویلمپنٹ کیلئے حصہ زیادہ رکھا تھا جہاں جہاں آپریشن ہوا سب کو واپس گھر بھیجا بے نظیر کارڈ کا انتظام کیا تھا، لیکن موجودہ حکومت نے ابھی تک آئی ڈی پیز کو مکمل طور پر بحال نہیں کیا پاکستان پیپلزپارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ آئی ڈی پیز کو فوری طور پر گھر بھیجا جائے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے جمہوری اور ہمارا دھرنا غداری ہے جب عمران خان پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہے تو نوجوان متاثر ہوتا ہے ایک نہیں دو پاکستا ن ہیں اسلام آباد کا آئی جی اگر فون نہ سنے کو گھر بھیج دیا جاتا ہے پنجاب پولیس ریفارمز کرنے والوں کو چند ہفتوں میں ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے کے پی کے میں بھی آئی جی کو تبدیل کر دیا جا تاہے جب وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ کے درمیان بات طے پا جاتی ہے اور پانچ نام سینارٹی کے مطابق بھیجے جاتے ہیں، لیکن معاملات طے کرنے کے باوجود بھی یوٹرن لے لیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے