امریکا (کامرس ڈیسک) کورونا وائرس کے سبب چینی معیشت سست روی کا شکار ہے، خام تیل کی طلب کم ہونے سے 10 روز کے دوران قیمتیں 10 ڈالر 80 سینٹس فی بیرل تک گر گئیں، ماہرین کے مطابق پاکستان کے درآمدی بل میں 20 کروڑ ڈالر کمی کا امکان ہے۔ چین کی معیشت میں سست روی کے اثرات نمودار ہونے لگے، ایک روز کے دوران امریکی خام تیل کی قیمت ایک ڈالر کمی کے بعد 50 ڈالر 50 سینٹس فی بیرل ہوگئی جبکہ 10 روز کے دوران امریکی خام تیل 8 ڈالر 60 سینٹس فی بیرل سستا ہوا۔چینی نئے سال کے موقع پر چھٹیوں اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد چین بھر میں سفری پابندیاں لاگو کر دی گئی تھیں اور دکانیں بند تھیں۔ چین دنیا بھر میں تیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور وہ روزانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل استعمال کرتا ہے۔ لیکن ان چھٹیوں اور تجارتی سرگرمیوں کے بند ہونے کے باعث وہاں تیل کی طلب میں واضح کمی آئی ہے۔کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے طیاروں میں ڈالے جانے والے جیٹ فیول کی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ دنیا بھر کی کئی فضائی کمپنیوں نے چین کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں اور ملک پر سفری پابندیاں عاید کر دی ہیں۔چینی حکومت کے تعاون سے چلنے والے ایک تھنک ٹینک کے ماہر معاشیات ڑانگ منگ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے چین کی سالانہ اقتصادی ترقی کی کی شرح اس سال کے پہلے تین ماہ میں پانچ فیصد سے بھی کم ہو گی۔واضح رہے کہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور وہاں پر کاروبار میں منفی رحجان کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتوں متاثر ہو سکتی ہیں۔خدشہ ہے کہ دنیا بھر میں تیل فراہم کرنے والے بڑے ممالک تیل کی پیداوار میں کمی لائیں گے۔ دوسری جانب ایک روز میں برطانوی خام تیل کی قیمت ایک ڈالر 40 سینٹس کمی کے بعد 54 ڈالر 40 سینٹس فی بیرل ہوگئی جبکہ دس دن میں برطانوی خام تیل 10 ڈالر 80 سینٹس فی بیرل سستا ہوا۔ماہرین کے مطابق چینی معیشت میں سست روی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی طلب میں کمی ہورہی ہے، خام تیل سستا ہونے سے پاکستان کے درآمدی بل میں کمی کے ساتھ ساتھ آنے والے مہینوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا بھی امکان ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 10.80 ڈالر فی بیرل تک گر گئیں
القمر
