English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

(مسلم ممالک تقسیم ہیں) کشمیر پر اوآئی سی اجلاس نہیں بلاسکتے‘ عمران خان

پتراجایا(خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک اتنے تقسیم ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) کا سربراہ اجلاس تک نہیں بلاسکتے۔ ان کے بقول کشمیر اور میانمار میں ریاستی جبر کا سامنا کرنے والوں کی آواز بننے کی ضرورت ہے۔منگل کو ملائیشین تھنک ٹینک (ایڈوانس اسلامک انسٹی ٹیوٹ) سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا میں صرف ایک کروڑ سے کچھ زاید یہودی ہیں لیکن ان کے اثر و رسوخ اور طاقت کی وجہ سے کوئی ان کیخلاف ایک لفظ نہیں کہہ سکتا جب کہ مسلمانوں ایک ارب 30 کروڑ ہونے کے باوجود جبر اور بدترین بحرانوں سے دوچار ہیں اور ہماری کوئی آواز نہیں کیونکہ ہم تقسیم ہیں، مسلمانوں کو عالمی سطح پر متحدکرنے کی ضرورت ہے، ہمیں مسلمانوں کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم برصغیر کے عظیم رہنما تھے، پاکستان سے متعلق قائد اعظم کا وژن ہی میرا وژن ہے، پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک اسلام کے خلاف پروپیگنڈا بند کریں،ملائیشیا سربراہ کانفرنس کا مقصد دنیا بھر میں اسلام فوبیا کا مشترکہ مقابلہ کرنا تھا، مذہب کو کبھی بھی کسی پر زبردستی نافذ نہیں کیا جا سکتا، مغرب پر واضح کرنا چاہتا ہوں انتہا پسندی اور خود کش حملوں کا اسلام سے تعلق نہیں،اسلامی ممالک کی قیادت اسلام و فوبیا کا موثر جواب نہ دینے کی قصور وار ہیں، مسلم حکمرانوں نے اسلام سے متعلق مغرب کے نظریات غلط ثابت کرنے کے بجائے اسی کا پرچارکیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت تباہی کے راستے پر گامزن ہے اور اگر بھارت فسطائیت اور انتہا پسند ہندووتوا کے راستے پر ہی گامزن رہا تو ہمیشہ کے لیے تقسیم ہو جائے گا اور اس کے ٹکڑے ہوجائیں گے۔ بعد ازاں شرکاء کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سعودی عرب اور ایران کشیدگی کم کرانے میں جو کردار ادا کیا اس پر خوشی ہے، ہم امت کا اتحاد اس لیے نہیں چاہتے کہ ہمیں کسی سے جنگ کرنی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ امت کے مفادات کا تحفظ کریں، جس طرح دنیا کی کوئی بھی کمیونٹی اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان اور ملائیشین وزیراعظم کے درمیان پہلے وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جن میں تجارت سرمایہ کاری، صنعت، دفاع اور مختلف شعبوں میں تعاون پر اتفاق ہوا۔وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ملائیشین وزیر قانون نے معاہدے پر دستخط کیے۔ وزیراعظم اور مہاتیر محمد کے درمیان ون آن ون بھی ملاقات ہوئی جس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان سے باہمی تعاون سے متعلق جامع مذاکرات ہوئے ہیں، تمام سطح پر وفود کے تبادلوں اور دوروں پر اتفاق کیا گیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کااعادہ کیا گیا۔انہوںنے کہا کہ مسلم امہ کو درپیش چیلنجز کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔ مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ دفاع اور تعلیم کے میدانوں میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، اس کے علاوہ تجارتی رکاوٹوں کو دور کرکے باہمی تجارت پر اتفاق کیا گیا۔ عمران خان کا دورہ ملائیشیا دوطرفہ تعلقات کا عکاس ہے دونو ں ممالک کے وفود کی سطح پر دورے جاری رہیں گے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بہت افسردہ تھا کہ دسمبر کے وسط میں کوالالمپور میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہ کرسکا، پاکستان کے قریبی دوست ملک سمجھتے تھے کہ یہ کانفرنس مسلم امہ میں تقسیم کا باعث بنے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ آئندہ کانفرنس میں ضرور شرکت کروں گا۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کی وجہ سے ملائیشیا کے ساتھ تجارت کم کرے گا تو ہم اس کی کمی پوری کریں گے ۔بعد ازاں وزیراعظم ملائیشیا کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے