English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عمران فاروق قتل کیس: مزید2گواہان نے بیان ریکارڈ کرادیا

القمر

اسلام آباد(صباح نیوز)انسداد دہشت گردی عدالت(اے ٹی سی)میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل سے متعلق کیس میں مزید 2 گواہان نے بیان ریکارڈ کرادیا۔اے ٹی سی کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی، جہاں تمام ملزمان کو اڈیالہ جیل سے عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔دوران سماعت برطانوی گواہان محمد اکبر اور معین الدین شیخ نے بذریعہ وڈیو لنک بیان ریکارڈ کرایا۔ واضح رہے کہ عدالت نے بدھ کو ان دونوں برطانوی گواہان کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا تھا۔بعد ازان سماعت کے دوران گواہ محمد اکبر نے کہا کہ معظم علی نے مجھے ای میل کی کہ وہ اپنی 3بیٹیوں کے ہمراہ میرے ساتھ رہنا چاہتا ہے، تاہم میں نے چھوٹے مکان میں رہنے کے باعث انہیں ساتھ رہنے سے منع کردیا پھر ایک دوست کے ذریعے ان کو رہائش دلوائی اور معظم علی کو ہیتھرو ائرپورٹ سے پک کیا۔گواہ محمد اکبر کا کہنا تھا کہ میں معظم علی کو اپنے ایک دوست شہزاد کے ذریعے جانتا تھا، میرے کراچی کے ایک اچھے دوست اکبر نے درخواست کی کہ معظم کی دیکھ بھال کرے۔دوران سماعت گواہ محمد اکبر نے کہا کہ معظم علی پہلی بار لندن الطاف حسین کی شادی میں آئے، مجھے معظم کا پہلی بار لندن آنے کے سال کے بارے میں معلوم نہیں تاہم وہ الطاف حسین کی شادی پر آئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ آنے کے بعد معظم علی پھر 3 سے 4 مرتبہ دوبارہ لندن آئے جبکہ اس دوران میں نے بھی پاکستان کے 2 چکر لگائے۔اس پر وکیل صفائی نے گواہ سے پوچھا کہ کیا آپ ان سے پاکستان میں ملے؟ اور اگر ملے تو کس طرح ملے؟گواہ محمد اکبر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پہلے دورے پر معظم علی مجھے لینے کراچی ایئرپورٹ آئے، جس کے بعد دوسری مرتبہ میں 2012 میں پاکستان گیا۔اس دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ معظم علی نے میرے دوست اکبر سے درخواست کی کہ مجھے ان کی جگہ پر لے آئیں، اس پر وکیل نے سوال کیا کہ وہ کون سی جگہ تھی جہاں معظم علی نے آپ کو آنے کا کہا؟ جس پر گواہ نے بیان دیا کہ وہ جگہ نائن زیرو تھی۔محمد اکبر کا کہنا تھا کہ جب میں معظم سے ملنے وہاں گیا تو مجھ پر خوف طاری ہوگیا، اس جگہ پر چیک پوسٹ تھی اور بہت سے لوگوں کے پاس بندوقیں تھیں۔گواہ محمد اکبر نے بتایا کہ یہ میرا ان کے پاس آخری دورہ تھا میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں ان کی طرح کا بندہ نہیں ہوں۔دوسرے گواہ معین الدین شیخ جب بیان ریکارڈ کرانے آئے تو ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے پولیس کے سامنے اس کیس میں بیان دیا ہے۔معین الدین شیخ نے جواب میں کہا کہ جی، میں نے 2013ءمیں اس کیس سے متعلق پولیس کو بیان دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ محسن علی سید 2010ءمیں میرے گھر پررہا۔ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے پوچھا کہ آپ محسن سے کیسے ملے جس پر گواہ نے کہا کہ محسن علی سید اسی دکان پر کام کر رہا تھا جس پر میں بھی ملازم تھا۔ان کا کہنا تھا کہ محسن رہائش کے لیے کمرے کی تلاش میں تھا اور میں نے اس کو اپنے گھر میں کمرا دیا۔معین الدین شیخ نے بتایا کہ محسن نے مجھے پاسپورٹ کی کاپی اور اسٹوڈنٹ کارڈ کی کاپی دی، میں محسن سے 40پانڈ فی ہفتہ کرایہ لیتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ محسن سے کامران نامی شخص ملنے آیا اس کے کچھ عرصے بعد ستمبر 2010ءمیں محسن منظر سے غائب ہوگیا، میں اس کے نمبر پر فون کرتا رہا، میں نے اس کے کالج فون کیا جس پر کالج والوں نے بتایا کہ وہ کئی دن سے کالج نہیں آیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے پھر پولیس کو اس حوالے سے اطلاع دی، تاہم خاتون پولیس اہلکار نے مجھے بتایا کہ محسن کو ڈی پورٹ کردیا گیا۔گواہ نے کہا کہ مجھے تاریخ یاد نہیں کہ آخری بار محسن کو کب دیکھا جبکہ میں نے پولیس کو محسن سے ملنے آنے والے کامران کا حلیہ بتایا۔دونوں گواہان کے بیانات قلمبند ہونے کے بعد کیس کی سماعت آج جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔
عمران فاروق قتل کیس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے