English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان میں ترقی وخوشحالی کا سفر مشکل کیوں؟ نعیم صدیقی

پاکستان کے سرکاری قرض و اخراجات میں 15 ماہ میں 40 فیصد اضافے کے بعد حکومت نے جنوری سے جولائی 2020 تک مزید 19 کھرب روپے کا قرض لینے کا ارادہ ظاہر کردیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرھ سب سے زیادہ قرض پر انحصار کر رہی ہے جب کہ قرض لیکر دنیا میں کبھی کسی قوم نے ترقی نہیں کی بلکہ قرض دینے والے ایسی شرائط اور پالیسیوں پر عمل درآمد پر مجبورکردیتے ہیں جن کا سارا نقصان ملک اور قوم کو ہوتا ہے تاہم حکمران اپنی باری لیکر چلے جاتے ہیں لیکن ملک اور قوم ایسے قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں جس کا فائدہ پاکستان کے عام لوگوں کونہیں ہوتا اور نہ ہی ترقی و خوشحالی کی کوئی منزل دکھائی دیتی ہے اس طرح دیکھا جائے تو پاکستان کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، مہنگائی و بیروزگاری عام ہے جب کہ حکومت کی جانب سے کوئی امید افزا پالیسی سامنے نہیں آرہی۔انیس کھرب روپے کا قرضہ لینے کے حوالے سے معلومات وزارت خزانہ نے مسلم لیگ نوازکے رکنِ قومی اسمبلی افضل کھوکھر کے سوال کے جواب میں تحریری طور پر جمع کروائی جس کے بعد قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے مابین زبانی جھڑپ بھی دیکھنے کو ملی لیکن کوئی مثبت نتیجہ نظر نہیں آتا۔اس معاملے سے ایک ہفتے قبل حکومت نے بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کی حد سے تجاوز کر کے فسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹFRDLAکی خلاف ورزی کرنے کا اعتراف کیا تھا۔15 ماہ کے عرصے میں پاکستان کے سرکاری قرض اور واجبات میں 40 فیصد اضافہ ہوا تو حکومت نے بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کی حد سے تجاوز کر کے فسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ FRDLAکی خلاف ورزی کرنے کا اعتراف کرلیا۔ ملکی قرضوں کے حوالے سے پارلیمان میں پیش کیے گئے پالیسی بیان میں وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2018 کے اختتام پر مجموعی قرض اور واجبات 290 کھرب 87 ارب 90 کروڑ روپے تھے جو ستمبر 2019 تک 410 کھرب 48 ارب 90 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے یعنی اس میں 39 فیصد یا 110 کھرب 60 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ملکی قرضوں کے حوالے سے پارلیمان میں پیش کیے گئے پالیسی بیان میں وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2018 کے اختتام پر مجموعی قرض اور واجبات 290 کھرب 87 ارب 90 کروڑ روپے تھے جو ستمبر 2019 تک 410 کھرب 48 ارب 90 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے یعنی اس میں 39 فیصد یا 110 کھرب 60 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔مالی سال 2019 کے اختتام تک مجموعی قرض اور واجبات میں 35 فیصد یا 100 کھرب 34 ارب 40 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 402 کھرب 23 ارب 30 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔افضل کھوکھر کے سوال کا دوسرا حصہ تھا کیا یہ حقیقت ہے کہ حکومت حد سے زیادہ قرضوں پر انحصار کررہی ہے، جس کا جواب دیتے ہوئے وزارت خزانہ نے بیان دیا کہ حکومت کی ضروریات ریونیو اور اخراجات کا فرق طے کرتا ہے۔حکومت جو 19 کھرب کا قرض لینا چاہ رہی ہے اس حوالے سے وزارت خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ 11 کھرب روپے بیرونی جبکہ 8 کھرب روپے مقامی ذرائع سے حاصل کیے جائیں گے۔مالی سال 2019 کے اختتام تک مجموعی قرض اور واجبات میں 35 فیصد یا 100 کھرب 34 ارب 40 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا اور یہ 402 کھرب 23 ارب 30 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ایف آر ڈی ایل اے چاہتی ہے کہ وفاقی حکومت وفاقی مالیاتی قرض کو کم کرنے کے اقدامات کرے اور مجموعی سرکاری قرضوں کو دانشمندانہ حدود کے اندر رکھے۔افضل کھوکھر کے ایک سوال کے جواب میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ حکومت 2023 میں اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے تک 12 ہزار 261 ارب مقامی جبکہ 28 ارب 20 کروڑ ڈالر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن اسمبلی روبینہ عرفان کے سوال کے جواب میں وزارت خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے قرض لینے کے لیے کوئی سرکاری املاک کسی قومی یا غیر ملکی قرض دہندہ ادارے کے پاس گروی نہیں رکھوائی لیکن 3 اثاثوں کو اجارہ سکوک(شرعیت کے مطابق قرض لینا ) کے لیے استعمال کیا گیا۔اراکین اسمبلی کو بتایا گیا کہ حکومت نے اسلام آباد موٹروے کے لیے 71 ارب روپے اور اسلام آباد سے لاہور موٹروے کے 2 حصوں کے لیے 2 ارب ڈالر کا قرض لیا تھا۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی جانب سے حکومت پر ملک میں آٹے اور چینی کے حالیہ بحران میں ملوث مافیاز کو تحفظ دینے کا الزام لگانے کے بعد حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے مابین گرما گرمی بھی دیکھنے میں آئی تھی۔اجلاس میں 2 بل بھی منظور کیے گئے اور اراکین کے 3 نجی بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے جو حکمران جماعت کے فخر امام، ریاض فتیانہ اور امجد علی خان نے پیش کیے تھے، عوام کے نمائندوں کی ھالے یہ ہے کہ جب بھی کورم کی نشاندہی کی جاتی ہے تو اجلاس ملتوی ہوجاتا ہے کیونکہ عوام کے نمائندے قومی اسمبلی میں آتے ہی نہیں ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی پر اجلاس اگلے دن تک کے لیے ملتوی کردیا جاتا ہے۔پیسی قومی خزانے سے خرچ ہوتا ہے لیکن عوام کے منتخب نمائندے اپنی بھرپور ھاضری کو یقینی بنانے میں سنجیدہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے بے شمار ملکی و قومی اور عوامی مسائل پر بات ہی نہیں ہوتی اور نہ ہی قانون ساز کی بات کی جاتی ہے۔پاکستان کو 3 پائیدار ترقیاتی اہداف کو پورا کرنے لیے 2030 تک 2 کھرب 34 ارب 50 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ ان ایس ڈی جیز میں توانائی، ڈیجیٹل رسائی، ٹرانسپورٹ اور صاف پانی و نکاسی شامل ہیں۔کمپنیوں، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف پورے کرنے میں اپنی سرمایہ کاری کے اثرات کا اندازہ لگانے میں مدد کے لیے جاری کی گئی اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی رپورٹ ‘اپورچونیٹی 2030: اسٹینڈرڈ چارٹرڈ انویسٹمنٹ میپ’ میں یہ حقائق سامنے لائے گئے۔رپورٹ میں ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں نجی سرمایہ کاروں کے لیے 100 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی بھی کی گئی۔پاکستان میں توانائی کے شعبے کو 99 ارب 30 کروڑ ڈالر، ڈیجیٹل رسائی میں 56 ارب 60 کروڑ ڈالر، ٹرانسپورٹ میں 38 ارب 50 کروڑ ڈالر اور صاف پانی و نکاسی میں 4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں نجی شعبے کا بجلی کو عام کرنے میں سرمایہ کاری کے موقع کو نمایاں کیا گیا۔اس میں مزید کہا گیا کہ 29 فیصد آبادی بجلی کے بغیر رہ رہی ہے جس کی وجہ سے اس شعبے کو مجموعی طور پر 144 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جس میں 44 ارب 70 کروڑ ڈالر نجی شعبہ دے سکتا ہے۔ رواں مالی سال 19-2018 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران غیر ملکی قرضوں اور واجبات(ای ڈی ایل) میں 10 ارب 60 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس میں 74 ارب 20 کروڑ ڈالر کے سرکاری قرضے بھی شامل ہیں جو مارچ 2019 تک ایک کھرب 5 ارب 80 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔ مجموعی سرکاری قرضوں کی ادائیگی میں دو طرفہ ذرائع سے کی جانے والی ادائگیاں سب سے زیادہ یعنی 48 فیصد یا 4 ارب 40 ہزار ڈالر رہیں۔سروے میں کہا گیا کہ مجموعی 2 طرفہ ادائیگیوں میں چین کی جانب سے ہونے والی ادائیگیاں 3 ارب 88 کروڑ 50 لاکھ ڈالر یا کل رقم کا 97 فیصد رہیں۔ایسے معاشی حالات میں پاکستان کا تعمیرو ترقی کی جانب سفر کرنا نہایت مشکل دکھائی دیتا ہے کیا اچھی بات ہوتی کہ حکومت اور اپوزیشن باہم متحد ہو کر ملک اور قوم کیلئے امید کے دئے روشن کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے