سالانہ صوبائی ترقیاتی پروگرام میں شامل اسکیمز کیلئے رواں سہ ماہی میں فنڈز کا اجرا نہیں کیا جارہا، ملنے والے شیئر میں 128 ارب کم وصول ہوئے، ذرائع
سندھ حکومت کو رواں مالی سال کے 7 ماہ میں 487 ارب ملنا تھے، وفاق کی متعصبانہ پالیسی سے صوبے کے جاری اور نئے منصوبے ٹھپ ہورہے ہیں، ترجمان سندھ حکومت
کراچی(اسٹاف رپورٹر) وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان انتظامی مالی امور پر تنازع‘ سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز روک دیئے گئے‘ سالانہ صوبائی ترقیاتی پروگرام میں شامل اسکیموں کیلئے روانہ سہ ماہی میں فنڈز کا اجراء نہیں کیا جارہا ‘ وفاق سے این ایف سی اور دیگرمد میں ملنے والے شیئر میں128 ارب روپے کم موصول ہوئے ہیں جس کے باعث سندھ حکومت نے غیر ترقیاتی مصارف میں بھی کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں سندھ حکومت کے بیشتر قیاتی منصوبے مکمل نہیں ہوسکیں گے۔ اس ضمن میں ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ وفاق سے فنڈز نہ ملنے پر پہلے مرحلے میں نئے منصوبوں کے فندز روکے جارہے ہیں۔ سندھ حکومت کو رواں مالی سال کے7 ماہ میں487 ارب روپے ملنا تھے۔ فنڈز روکے جانے سے سندھ حکومت کے امو ربری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ خدارا وفاقی حکومت ہوش کے ناخن لے اور فندز کا اجراء کرے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وفاق کی متعصبانہ پالیسی کی وجہ سے سندھ کے جاری اور نئے منصوبے ٹھپ ہورہے ہیں ‘پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت ٹیکس وصولیوں میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔

