اسلام آباد(آن لائن+صباح نیوز)وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے سرعام پھانسی کی قرارداد کی مذمت کرنے پر وفاقی وزیر فواد چودھری پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ہفتے کو علی محمد خان نے ٹوئٹ پر فواد چودھری کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اللہ الحق ہے اور اس کا حکم بھی الحق ہے، اسلامی سزاؤں کو ظلم کہنے والے خودظالم ہیں۔علی محمد خان نے قبائلی معاشرے پر فواد چودھری کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی معاشرہ دنیا کا سب سے مہذب معاشرہ ہے جہاں عورت کی عزت، بڑوں کا ادب اور پختون ولی ہے، جہاں سر قربان کیا جاتا ہے لیکن عزت قربان نہیں کی جا تی ،مجھے اپنے قبائلی معاشرے پر فخر ہے۔وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ کوئی کچھ بھی کہے جو اللہ کا حکم ہے اس پر عمل ہونا چاہیے ، جس کی زینب شہید ہوتی ہے اسی کو اس درد کا علم ہے، ایسے ظالم درندوں کےلیے ایک ہی سزا ہے جس سے دیگر درندوں کو مضبوط پیغام ملے گا کہ پاکستانی قوم اپنے بچوں کی بے حرمت شدہ لاشیں مزید برداشت نہیں کر سکتی۔علی محمد خان نے قرارداد کی منظوری پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسے قومی اسمبلی کی تاریخ کا ایک اہم دن قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پہلے اس سزا کا مطالبہ کر چکے تھے اب بلال بھی تائید کریں ۔علاوہ ازیںوفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم نے سرعام سزائے موت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرعام پھانسی اسلامی تعلیمات اور آئین کے منافی ہے،1994ء میں عدالت عظمیٰ سرعام پھانسی کی سزا کو غیر آئینی قراردے چکی ہے،عدالت عظمیٰ کہہ چکی ہے کہ سرعام پھانسی آئین کے ساتھ شریعت کی بھی خلاف ورزی ہے،وزارت قانون آئین اور شریعت کے خلاف کوئی قانون نہیںبنائے گی۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ 1994ء میں عدالت عظمیٰ کے جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ نے ایک فیصلہ دیا تھا اور اس فیصلے میں کہا تھا کہ سرعام پھانسی نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہے بلکہ یہ پاکستان کے آئین کے بھی خلاف ہے۔ فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ وزارت قانون ایسی کوئی قانون سازی نہیں کرے گی جو نہ صرف اسلام کے خلاف ہو بلکہ پاکستانی آئین کے بھی خلاف ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کوئی ڈرافٹ آیا تو وزارت قانون اس کی بھر پور مخالفت کرے گی اور ایسا کوئی قانون نہیںبنے گا۔
اسلامی سزاؤں کو ظلم کہنے والے خود ظالم ہیں،علی محمد خان کا فواد چودھری کو جواب
القمر
