English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت کے خلاف میچ میں نوجوان کھلاڑی دبائو میں نظر آئے ،اعجاز احمد

القمر

لاہور(جسارت نیوز )قومی انڈر 19 ٹیم کے ہیڈ کوچ اعجاز احمد نے کہا ہے کہ ٹیم نے ورلڈ کپ 2020ء میں بھر پور پرفارمنس دکھائی ‘ٹیم نے پریکٹس میچز سے لے کر ایونٹ میں تمام میچ جیتے ‘بدقسمتی سے ہم فائنل تک رسائی حاصل نہ سکے لیکن پھر بھی تیسری پوزیشن حاصل کر لی‘ٹیم کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن ہوں‘روایتی حریف بھارت سے خلاف میچ کے دوران نوجون کھلاڑیوں نے پریشر لے لیا جس کی وجہ سے ہم میچ ہار گئے‘ پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے اور جیتے پر ہم بنگلا دیش ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے بہتر ٹیم ورک شو کیا اور فائنل میں بھارت کو شکست دی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ ٹیم کے کپتان روحیل اور حیدر ایونٹ میں اچھا پرفارم نہیں کر پائے جس پر مجھے افسوس ہوا‘ کرکٹ میں اتار چڑھائو آتا رہتا ہے، ہم نہ امید نہیں ‘پورا ایونٹ بہت اچھا رہا مستقبل میں ہم اپنی کمزویوں پر قابو پا کر اچھا کم بیک کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ قاسم اکرم میں بطور فیلڈر اور بیٹسمین حارث میں مجھے اچھا ٹیلنٹ نظر آیا اور مجھے امید ہے کہ وہ بہتر فیلڈر اور بیٹسمین ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی سے گزارش کی ہے کہ مجھے 4 ماہ کیلئے ٹریننگ کیمپ کا انعقاد کر نے دیں تاکہ میں ایمرجنگ اور انڈر19 پلیئرز کی بہتر ٹریننگ کروا سکوں ’انڈر 19 ٹیم نے بہت کم میچز کھیلے ہیں میں پی سی بی اور اعلی حکام سے گزارش کروں گا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ میچز کھیلنے کو دیئے جائیں اور زیادہ سے زیادہ ٹورز کروائے جائیں تاکہ ٹیم میں مزیدبہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 6 ماہ سے میں انڈر 19 ٹیم کے ساتھ ہوں اور اس دوران ایشیاء کپ‘بنگلا دیش‘انڈیا اور افغانستان کے ساتھ میچز کے دوران صرف ایک میچ ہارے ہیں اس طرح میں پر امید ہوں آئندہ 6 ماہ میں ہم نے ابھی بہت کام کرنا ہے اور مجھے امید ہے کہ میں اس دوران ٹیم میں مزید نکھار پیدا کروں گا۔ ایک سوال کے جواب میں اعجاز احمد نے کہاکہ ہار جیت ٹیم کا حصہ ہے میرا کام ٹیم کی کھلاڑیوں کی ڈویلپمنٹ کرنا ہے کیونکہ مجھے یہ اسائمنٹ دیا گیا ہے اور میں مطمئن ہوں کہ مختصر سے عرصہ میں ٹیم کو بہت ڈویلپ کیا ہے ‘ہارنے کاافسوس ضرور ہوا ہے لیکن میں نہ امید نہیں ہوں‘ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم نے پوری تیاری کی ہوئی تھی 40 روز کا کیمپ بھی لگایا لیکن موسم کی کنڈیشن بہتر نہیں تھی بارشوں کی وجہ سے کچھ پریکٹس میچز ملتوی ہوئے جس کا اثر بھی پریکٹس پر پڑا تاہم میں کھلاڑیوں کو ایک اعتماد دیا کہ آپ بہترین کھلاڑی ہیں کسی ٹیم کا پریشر نہیں لینا ‘کھلاڑیوں نے ورلڈ کپ کے دوران باہر کی پچز پر اچھی پرفارمنس بھی دکھائی صرف ایک میچ ہی ہارے لیکن بدقسمتی سے انڈیا کے خلاف کھلاڑیوں نے کچھ پریشر لیا جس پر میچ ہار گئے تاہم مجموعی طور پر ٹیم نے اچھی کارکردگی دکھائی جس پر میں مطمئن ہوں‘جو خامیاں ہیں ان پر آئندہ قابو پا نے کی کوشش کریں گے۔اعجاز احمد نے کہا کہ انڈر 19 ورلڈ کپ میں نسیم شاہ کی کمی محسوس ہوئی کیونکہ میں اس کو ساتھ نہیں لے کر جاسکا لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں اس کی ہیٹرک پر بہت خوشی ہوئی وہ ایک اچھا بولرہے اور مجھے امید ہے کہ وہ آئندہ بھی پاکستان کے لئے بہتر پرفارم کرے گا‘ اعجاز احمد نے کہاکہ جب ہم کرکٹ کھیلتے تھے تو ہم بھارت سے 80 فیصد میچز میں جیت جاتے تھے ہم آدھا میچ تو باڈی لینگوئج سے ہی جیت جاتے تھے ‘وہی باڈی لینگوئج اور اعتماد ان کھلاڑیوں میں منتقل کرنا ہے۔
تاکہ یہ اس پریشر سے باہر آسکیں‘ سیمی فائنل میں ہمارے بیٹسمین زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور کم اسکور کا ٹارگٹ دیا ‘اگر ہم ایک بڑا اسکور کرلیتے تو ہم سیمی فائنل میچ جیت سکتے تھے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جیتنا ہر کوچ کی خواہش ہوتی ہے ہم ورلڈ کپ نہیں جیت سکے لیکن اس کے باوجود بھی ہماری ٹیم نے بہت اچھا پرفارم کیا ہے اور ہم مستقبل میں بھی اچھا زرلٹ دیں گے۔فائنل میچ میں بھارتی ٹیم کے ہارنے کے بعد بنگلا دیش کے کھلاڑیوں کے ساتھ منفی رویہ کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بھارتی ٹیم کا رویہ افسوس ناک ہے کیونکہ ہار جیت ٹیم کا حصہ ہے اس طرح کا جذباتی رویہ ا سپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف ہے۔قومی انڈر 19 ٹیم کے کپتان روحیل نذیر نے کہا کہ پوری ٹیم نے ورلڈ کپ میں اچھا پرفارم کیا ‘ہم بدقسمتی سے ورلڈ کپ نہ جیت سکے لیکن پھر بھی ہم نے تیسری پوزیشن حاصل کر لی‘ٹیم مینجمنٹ اور اعجا ز بھائی نے پوری طرح تیار کروائی تھی اور ہم ان کی توقعات کے مطابق کھیلے بھی ‘لیکن کچھ غلطیوں کی وجہ سے ہم ایونٹ کا اہم میچ سیمی فائنل ہارگئے‘آئندہ ہم ان غلطیوں پر قابو پاکر بہتر پرفارم کرنے کی کوشش کریں گے‘ایک سوال کے جواب میں روحیل نذیر نے کہاکہ انڈر 19 ورلڈ کپ 2020ء کے سیمی فائنل میں بھارت کے ساتھ میچ کے دوران ہماری پلاننگ تھی کہ پہلے ٹاس جیت کر بیٹنگ کریںگے اور ایک اچھا اسکور کر کے بھارت کو پریشر میں لے آئیں گے کیونکہ ہمارے پاس بہترین بولرز تھے لیکن بدقسمتی سے اچھا اسکور نہ کر سکے جس پرمیچ ہار گئے‘روحیل نذیر نے کہاکہ میں پچھلے سارے میچز جن میں سائوتھ افریقا سیریز‘سری لنکا سیریزمیں اچھی پرفارمنس دی اور بیسٹ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ آیا اسی طرح اشیاء کپ میں بھی میں نے عمدہ پرفارمنس دی‘ورلڈ کپ میں بھی میں اسی امید پر گیا کہ میں نے ورلڈ کپ میں بھی اسی تسلسل کو برقرار رکھنا ہے لیکن بدقسمتی سے پرفارم نہ کر سکا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر آپ ایک دو میچز میں اچھا پرفارم نہیں دیا تو آئندہ بھی نہیں دے سکوں گا‘ہار جیت گیم کا حصہ ہے میں اپنی خامیوںپر قابو پا کر بہتر کرنے کی کوشش کروں گا‘پی ایس ایل میں اچھا کرنے کی کوشش کروں گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے