English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سب ملک کے وفادار ہیں غدار کوئی نہیں ہے، نعیم صدیقی

جس دن سے وزیراعظم عمران خا ن نے جمعیت علماء اسلام( ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف آرٹیکل 6 لگانے کی بات کی ہے اس کے بعد سے اب تک ملک بھر میں ایک طویل بحث شروع ہو گئی ہے،اپوزیشن کی تما م جماعتوں اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے کہا جا رہا ہے اس طرح کی باتیں کرنے کا یہ وقت ہر گز نہیں ہے بلکہ ملک کو درپیش بدترین معاشی بحران کا مقابلہ کرنا اہم ترین کام ہے جو حکومت کو پہلی فرصت میں کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی سے نقصان ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ وزیراعظم کے بیان کے بعد قومی اسمبلی میں اجلاس کے دوران سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم کے ان ریمارکس کی بازگشت گونجتی رہی کہ جمعیت علمائے اسلام) ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف حکومت گرانے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ ہونا چاہیئے۔اپوزیشن نے متفقہ طور پر مولانا فضل الرحمن کے خلاف ایسے کسی قسم کے حکومتی اقدام کے خلاف آواز اٹھائی اور حکومت کے چیلنج کیا کہ اگر کرسکتے ہیں تو کر کے دکھائیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر غداری کا مقدمہ بنایا گیا تو یہ مولانا فضل الرحمن اور خواجہ آصف کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ مولانا فضل الرحمن پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیے، عمران خان وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت گرانے سے متعلق بیان پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں وزیراعظم نے مختلف معاملات پر بات کی۔اپنی گفتگو کے دوران عمران خان نے کہا تھاکہ ‘حکومت گرانے سے متعلق بیان پر مولانا فضل الرحمن کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیے’۔ یہ بھی واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنا آزادی دھرنا اس لیے ختم کیا کیونکہ انہیں یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ عمران خان کا استعفی ہوگا اور نئے الیکشن ہوں گے۔نومبر 2019 میں اسلام آباد کے کشمیر روڈ پر جمعیت علمائے اسلام(ف)نے 13 دن تک آزادی دھرنا دیا تھا جو بعد ازاں پلان بی کے اس اعلان پر ختم کیا گیا تھا کہ اس پلان میں ملک بھر کی شاہراہوں پر احتجاج کیا جائے گا۔جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا تھا کہ انہوں نے گزشتہ برس اپنا آزادی دھرنا اس لیے ختم کیا کیونکہ انہیں یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ عمران خان کا استعفی ہوگا اور 3 ماہ میں نئے انتخابات ہوں گے۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہاں سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد احسان اللہ احسان فرار ہوجاتا ہے لیکن مقدمات صرف سیاسی قیادت کے خلاف بنائے جاتے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ سیاستدانوں کے خلاف کن وجوہات اور کن الزامات کے تحت غداری کے مقدمات قائم کیے جائیں گے۔اس ضمن میں پاکستان مسلم لیگنون کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو عمران خان سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ انہوں نے جمہوریت کے لیے ہر قربانی دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہاں کراچی کے سابق ایس ایس پی رائو انوار اور کالعدم تحریک طالبان کے احسان اللہ احسان آزاد گھوم رہے ہیں جبکہ سیاستدانوں کے خلاف مقدمات بنائے گئے، اس قسم کی راہیں نہ کھولیں یہ خطرناک ہے۔خواجہ آصف کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ملک میں قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے توجہ ہٹانے کے لیے حکمران غداری کے مقدمات بنانے کی بات کررہے ہیں، غداری کے مقدمات ان پی ٹی آئی رہنمائوںکے خلاف بنانے چاہیے جنہوں نے پی ٹی وی پر حملہ کیا تھا۔اس ضمن میں مولانا فضل الرحمن کے بیٹے اور رکن اسمبلی مولانا اسد محمود نے ایوان میں کہا کہ آرٹیکل 6 مولانا پر نہیں لگنا چاہیئے بلکہ سیلیکٹڈ وزیراعظم پر لگنا چاہیئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں آپ(وزیراعظم) کو چیلنج کرتا ہوں کہ ہمارے خلاف مقدمات بنائیں، ہم وہ نہیں کریں گے جو یہ (حکومت) چاہتی ہے۔اس پر وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ حکومت کو کسی کو ہدف بنانے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن مولانا فضل الرحمن کو قوم کو بتانا پڑے گا انہیں کس نے حکومت گرانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ خفیہ ادارے نواز-زرداری کی کرپشن سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اداروں کو یہ بھی معلوم ہے کہ میں پیسے نہیں بنا رہا بلکہ دن رات محنت کر رہا ہوں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ حکومت کہیں نہیں جارہی بلکہ اپنی مدت پوری کرے گی۔ پاکستان کے عوام کو اس بات سے غرض نہیں ہے کہ کس نے کتنی کرپشن کی ہے۔ قانون اور آئین کی عمل داری قائم کرنا حکومت کا کام ہے۔اس ملک میں کوئی غدار نہیں ہے تما م سیاسی جماعتیں محب وطن اور ملک کی وفادار ہیں۔ ابھی عوام کو اپنے مسائل کا حل چاہئے، عوام کو روزگار،علاج تعلیم اور زندگی کی بنیادی اشیاء کی ضرورت ہے،مہنگائی میں کمی عوام کا مسئلہ ہے۔امید ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ کرنے کی بجائے ملک اور قوم کی خاطر بہتر فیصلے کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے