کچی آبادیوں میں چھوٹے پلاٹس پر غیر قانونی تعمیرات سے صرف نظر کیا جا رہا ہے
متعلقہ بلدیاتی اداروں میں تجاوزات کے خاتمے کیلئے ہم آہنگی بھی نہیں پائی جاتی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیاتی اداروں میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث بیشتر کارروائیاں ٹھیلوں اور پتھاروں تک محدود ہو گئی ہیں، کچی آبادیوں میں چھوٹے چھوٹے پلاٹوں پر تعمیر ہونے والی غیر قانونی تعمیرات سے صرف نظر کیا جا رہا ہے یا اسے ایس بی سی اے کا دائرہ کار قرار دیا جا رہا ہے۔ ضلعی بلدیات کے انسداد تجاوزات کے محکمے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں یا کے ایم سی و کے ڈی اے کی کارروائیوں کو اپنے کھاتوں میں ڈال رہے ہیں۔ دوسری جانب سپریم کورٹ کی جانب سے تجاوزات کے خاتمے کے لئے دی جانے والی مہلت کے بعد بلدیہ عظمیٰ کراچی کا محکمہ انسداد تجاوزات بھی سست روی کا شکار نظر آتا ہے۔ مختلف علاقوں میں ٹھیلوں اور پتھاروں کے خلاف کی گئی مہم کو ہی بڑی کارروائیاں قرار دیا جا رہا ہے۔ جمعہ کو شہر کے کسی علاقے میں تجاوزات کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ ادارہ ترقیات کراچی گزشتہ کئی ہفتوں سے کسی کارروائی کا حصہ نظر نہیں آ رہا۔ جمعہ کو ایس بی سی اے کی جانب سے صرف عثمان آباد میں جھکنے والی عمارت کو سربمہر کیے جانے کی ہی کارروائی کی گئی۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے گزشتہ دنوں 30 سے زائد غیر قانونی عمارتوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا گیا تھا،تاہم سولجر بازار میں واقع کیتھولک شادی ہال کو مسمار کرنے کے علاوہ کوئی کارروائی نظر نہیں آرہی۔

