English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ادلب میں فوجیوں کی ہلاکت روس ترکی تنائو میں اضافہ

القمر

دمشق ؍ انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں اسدی فوج کے حملوں میں 2 ترک فوجیوں کے ہلاک ہونے کے بعد انقرہ ماسکو تناؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق روس کی جانب سے بشار الاسد حکومت کی مستقل حمایت اور ترک عسکری کارروائیوں کی مخالفت کے بعد دونوں ممالک کے مابین کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں ترک وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شام ادلب میں حملے کے بعد شامی حکومت کے کئی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ترک حکام کے مطابق انقرہ حکومت شام میں قیام امن اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کارروائی کررہی ہے۔ اُدھر روسی وزارت دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ادلب میں ترکی کے حامیوں پر حملہ کیا تھا۔ دریں اثنا ترک وزیر دفاع خلوصی آقار نے ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ انقرہ نے ادلب میں ترکی کی قائم کردہ نگراں چوکیاں ہٹانے کی روسی درخواست مسترد کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑی تو ہم امریکا سے پیٹریاٹ میزائل نظام بھی خرید لیں گے اور توقع ہے کہ واشنگٹن ہمیں یہ فراہم کرے گا۔ دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اِردوان نے فرانسیسی ہم منصب اور جرمن چانسلر سے شامی تنازع پر ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔جس کے بعد عمانویل ماکروں اور انجیلا مرکل نے روسی صدر پیوٹن سے فوری طور پر ادلب میں حملے بند کرنے کی اپیل کی ہے۔
انقرہ: ادلب میں عسکری کارروائی کے لیے روانگی سے قبل ترک فوجی مشقیں کررہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے