مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی فوج نے غرب اردن میں 8سالہ فلسطینی بچے کو ربڑ کی گولی سے نشانہ بناکر اسے آنکھ سے محروم کردیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق مالک عیسیٰ کو آنکھ پر گولی لگنے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے متاثرہ آنکھ کا 2 بار آپریشن کرکے اسے ناکارہ قرار دے دیا۔ متاثرہ بچہ ا سکول سے اپنی بہنوں کے ساتھ گھر آرہا تھا کہ صہیونی درندوں نے اسے نشانہ بنایا۔ اسرائیلی اخبارہارٹزنے اپنی ویب سائٹ پر فوٹیج جاری کی، جس میں بتایا گیا ہے کہ مالک عیسیٰ کو بلا وجہ گولیاں ماری گئیں۔ علاقے میں کہیں کوئی پرتشدد واقعہ پیش نہیں آیا۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گولی دیوار پر ماری گئی تھی،جس کے بعد پتھر اچٹ کر بچے کی آنکھ پر لگا، تاہم ویڈیو فوٹیج میں اس دعوے کی قلعی کھل گئی ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی انتظامیہ کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہو رہی ہیں‘ قابض فوج کی گولی لگنے سے بچہ آنکھ سے محروم ہوگیا
اسرائیلی فوج نے فلسطینی بچے کو ہمیشہ کے لیے آنکھ سے محروم کر دیا
القمر
