طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں باغی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر نے تُرک فوج کو کارروائی کی دھمکی دے دی۔ خلیفہ حفتر نے روسی خبر رساں ادارے ’ آر آئی اے‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنیوا مذاکرات ناکام ہونے کے بعد وہ انقرہ کے فوجیوں پر حملوں کا آغاز کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ وہ شرائط کے پورے ہونے کی صورت میں لیبیا میں جنگ بندی کے لیے تیار ہیں،جن میں تُرک فوج دیگر غیر ملکی ملیشیاؤں کا لیبیا سے انخلاشامل ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ لیبی حکومت نے جنیوا مذاکرات میں شرکت ملتوی اس لیے کی، کیوں کہ وہ تُرکی اور قطرسے احکامات وصول کرتی ہے۔ دوسری جانب لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامہ نے زور دیا ہے کہ طرابلس میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے فریقین کے درمیان اعتماد کے بحران کو لیبیامیں جاری خانہ جنگی کی جڑ قرار دیا۔ لیبیا میں اسلحہ کی غیرقانونی ترسیل پر ہرصورت میں پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کا امن مشن لیبیا میں اسلحہ کی اسمگلنگ کی مسلسل نگرانی کررہا ہے۔ غسان سلامہ نے مزید کہا کہ لیبیا میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے ’برلن روڈ میپ‘کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ روڈ میپ گزشتہ ماہ برلن میں منعقدہ اجلاس کے دوران اپنایا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کہ برلن میں طے کردہ اسلحہ پر پابندی کا طریقہ کار سلامتی کونسل کے ہاتھ میں ہے۔ اقوام متحدہ نے لیبیا کو اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک سے عہد لیا ہے کہ وہ فریقین کو کسی طرح کے ہتھیار مہیا نہ کریں۔ لیبیا میں اس وقت بھی 2کروڑ غیرقانونی ہتھیار موجود ہیں۔
لیبیا: حفتر ملیشیا کی ترک فوج کیخلاف کارروائیوں کی دھمکی
القمر
