بڑے عہدوں پر فائز لو گ ہی اپنی فیصلوں سے کراچی میں یکجہتی پیدا کرسکتے ہیں جس سے ملک کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا
مردم شماری کے اعدادوشمار غلط ہیں تو کراچی کے ساتھ انصاف کیسے ہوسکتا ہے ٗسول سروسز اکیڈمی کے زیر تربیت افسران سے گفتگو
کراچی (وقائع نگار خصوصی) میئرکراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ مردم شماری سے ہم اتفاق نہیں کرتے اس کے خلاف کورٹ میں گئے ہوئے ہیں، نادرا کے ریکارڈ میں بھی کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ سے زیادہ ہے تو مردم شماری میں اتنی کم کیسے ہو سکتی ہے،یہ غلط ہے اس لئے اس کو نہیں مانتے، اگر مردم شماری کے اعداد و شمار ہی غلط ہوسکتے ہوںتو کراچی کے ساتھ انصاف کیسے ہوسکتا ہے، کراچی میں نفرتوں کے خاتمے کے لئے میرٹ اور انصاف بہت ضروری ہے ملک کے بڑے عہدوں پر فائز لوگ ہی اپنے فیصلوں سے کراچی میں یکجہتی پیدا کرسکتے ہیں جس سے ملک کو بھی بہت زیادہ فائدہ ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے دفتر میں سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر عاصم اقبال کی سربراہی میں ملاقات کے لئے آنے والے زیر تربیت افسران کے ایک وفد سے ملاقات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں سیاسی نظام غلط ہے، جاگیردارانہ ذہنیت کے باعث سیاسی حکومتوں نے کبھی تیسری سطح کی حکومتوں کو تسلیم نہیں کیا اور اسی لئے انہوں نے کبھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے، موجودہ انتخابات سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کرائے مگر اختیارات سارے اپنے پاس رکھ لئے جس سے ان انتخابات سے عوام کو فائدہ نہیں ہوا جو جمہوریت کا تقاضہ ہے، انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتیں فنڈ نیچے دینا نہیں چاہتیں یہاں تک کہ موجودہ حکومت جو پہلے اس نظام کو مضبوط کرنے کی بات کرتی تھی آج ایم این اے اور ایم پی اے کے ذریعے ہی ترقیاتی منصوبوں کے لئے رقم دے رہی ہے، انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو مضبوط کئے بغیر اور مڈل کلاس کی قیادت کے اسمبلیوں میں جانے تک اس ملک میں بہتری نہیں آ سکتی۔

