سمنان ٹائون کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کی فائلیں ابتدا میں 5ہزار میں فروخت، شہریوں سے 60کروڑ لوٹ لئے
30سال سے سوسائٹی کا تاحال قیام نہیں ہوسکا شہریوں سے وصولیاں جاری ہیں شہریوں کو سینکڑوں شکایات جمع
کراچی(نیوز ڈیسک)کراچی میں قائم کوآپریٹو ہاونگ سوسائٹیز کی تحقیقات میں 46برس سے ایک ہی سوسائٹی کو لاتعداد افراد میں فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے ، ایف آئی اے کی تحقیقات میں 30 برس سے زائد عرصے سے منظور ہونے والی سوسائٹیز کا تاحال قیام نہیں ہوسکا ، متعدد پر سیاسی جماعتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مخصوص افسران کے آشیرباد سے قبضہ ہوگیا ہے ، زمینوں کو خلاف ضابطہ فروخت کرنے والے اور قبضے میں ملوث افراد اآزاد جبکہ شہری اپنی جمع پونجی لٹا چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق عدالتی حکم پر کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیز کے فارنسک آڈٹ کے لئے ایف آئی اے میں تحقیقات جاری ہیں جس میں علیحدہ علیحدہ ٹیمیں مختلف کوآپریٹو سوسائٹیز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں مصروف ہیں۔ ایف آئی اے کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر لبنیٰ ٹوانہ کی نگرانی میں قائم ٹیم کی تحقیقات میں سمنان کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی ، کراچی میونسپل کارپوریشن یونائیٹڈ ورکرز سوسائٹی ، کراچی پورٹ ٹرسٹ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی ، سندھ پروویڑنل کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی ، گلشن معمار کے قریب واپڈا کے کراچی میں تعینات ملازمین کے لئے قائم سوسائٹی پر تعمیراتی عمل شروع نہیں ہوسکا لیکن شہریوں سے وصولیاں جاری ہیں۔ ایف آئی اے کی تحقیقات میں ناردرن بائی پاس کے قریب اسکیم 45 ضلع غربی میں آنے والی ایک کوا?پریٹو ہائوسنگ سوسائٹی سمنان ٹائون بھی ہے جس کی منظور ی 1974میں ہوئی اور اس کی نگرانی محمد یونس عرف صوفی اسلم نامی شخص کو دی گئی جسے اس سوسائٹی کا چیئرمین ظاہر کیا گیا ہے جبکہ بعد میں اس کے بیٹے عمران ملک کو بھی اس سوسائٹی کے عہدیدار کی حیثیت سے شامل کیا گیا، تحقیقات میں معلو م ہوا ہے کہ ابتدا میں یہ فائلیں 5ہزار تک فروخت کی گئیں اور2002سے 2008کے درمیان اس کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کے نام پر شہریوں سے 60کروڑ روپے لوٹ لئے گئے اس عرصے میں ایک شہری کی درخواست پرمحمد یونس عرف صوفی اسلم کو حیدرآباد پولیس نے گرفتار کیا اور کچھ عرصہ حیدرآباد جیل میں گزارنے کے بعد بھی وہ اس کاروبار میں مسلسل شہریوں سے لوٹ مار میں مصروف ہے جبکہ اس سوسائٹی کے نقشوں کی 5مرتبہ منظوری ہوئی اور اس سوسائٹی میں اسپتال اور ایس ٹی پلاٹس بھی درجنوں بار فروخت ہوئے۔ تحقیقات میں مختلف شہریوں کی جانب سے جعل سازی اور لوٹ مار کے بارے میں سینکڑوں شکایات جمع ہیں جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کے آشیرباد سے قبضہ مافیا زمین پر تاحال قابض ہے۔

