اسلام آباد(صباح نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں نیب سے متعلق صدارتی آرڈیننس پر حکومت اور اپوزیشن میں قانون سازی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ منگل کودوسرے روز بھی قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ریاض فتیانہ کی صدارت میںہوا۔ خواجہ سعد رفیق نے پروڈکشن آرڈر کے اجرا پر اجلاس میں شرکت کی۔ نیب آرڈیننس سے متعلق نئے صدارتی آرڈیننس پر غور اورکمیٹی کی حکمت عملی کے حوالے سے کارروائی بندکمرے میںہوئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک تمام ارکان نے نیب میں ترامیم سے متعلق نئے صدارتی آرڈیننس کی حمایت کردی ہے اور احتساب کا جامع قانون بنانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ وزارت قانون و انصاف کو ہدایت کی گئی ہے نیب کے موجودہ آرڈیننس اور نیب کے اختیارات کے حوالے سے عدالت عظمیٰ ،ہائیکورٹس کے فیصلوں و ابزرویشنز، نجی ترامیمی بلز بشمول فاروق ایچ نائیک کے بل کو یکجا کرتے ہوئے چارٹ تیار کیا جائے۔ تقابلی جائزہ کمیٹی میںپیش کیا جائے ، مارچ کے پہلے ہفتے میں کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔ کمیٹی ارکان کا اس بات پر اتفاق تھا کہ نیب آرڈیننس میں ترمیم کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے جوردوبدل کیا گیا ہے اس سے اگر کسی کو ریلیف ملتا ہے تو اچھا اقدام ہے ۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی دونوں جماعتوں کے ارکان نے تحریک انصاف کے ارکان پر واضح کیا کہ ہم تو نیب کے ذریعے انتقامی کارروائیاں بھگت چکے ہیں ، بھگت رہے ہیں ان کے پائوں جلیں گے تو پتہ چلے گا۔ اجلاس کے دوران علاقائی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کے بل کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اپوزیشن اور حکومت نیب آرڈیننس پر قانون سازی کیلیے متفق
القمر
