English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

الہ دین پارک کے قریب ٗ 6منزلہ عمارت گرانے کا کام شروع

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا عملہ راشد منہاس روڈ پر واقع زیر تعمیر رائل پارک اپارٹمنٹ کی مسماری کے کام میں مصروف
عمارت جس زمین پر تعمیر کی جارہی تھی وہ سرکاری ہے ٗ گرائے جانے کی اطلاع پر فلیٹ بک کرانے والے درجنوں شہریوں کا غم وغصہ ٗ جب پروجیکٹ شروع کیا جارہا تھا اس وقت ایس بی سی اے حکام کہا ں تھے ٗ متاثرین کا سوال ٗ انصاف کی فراہمی کا مطالبہ
سرکاری زمین پر بنی عمارت کو گرانے کیلئے بھاری مشینری کی مدد سے پہلے گرائونڈ پلس ون اسٹرکچر کے پلرز کمزور کئے جارہے ہیں بعد میں پوری عمارت کو گرایا جائیگا ٗ کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات پر کی جارہی ہے ٗ ایس بی سی اے حکام
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے الہ دین پارک کے قریب غیر قانونی عمارت کو گرانے کا کام شروع کر دیا، آج بھی کارروائی جاری رہے گی۔ ایس بی سی اے کے عملے نے پیر اور منگل کی درمیانی شب بھاری مشینری کے ہمراہ راشد منہاس روڈ الہ دین پارک کے قریب رائل پارک اپارٹمنٹ کی زیر تعمیر عمارت مسمار کرنے کی کارروائی شروع کردی، ابتدائی طور پر مشینری کی مدد سے گرائونڈ پلس ون اسٹرکچر کے پلرز کمزور کیے گئے ہیں بعدازاں 6 منزلہ عمارت کو گرایا جائے گا، رائل پارک اپارٹمنٹ جس اراضی پر تعمیر کیا جارہا تھا وہ سرکاری اراضی ہے اور حکومت نے مذکورہ اراضی کو فلاحی ادارے کو دی تھی مذکورہ اراضی غیر قانونی طریقے سے الاٹمنٹ کرا کر کسی اور کو فروخت کر دی گئی، عمارت گرائے جانے کی اطلاع پر عمارت میں فلیٹ بک کرانے والے درجنوں شہریوں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا، شہریوں کا کہنا تھا کہ جب یہ پروجیکٹ شروع کیا جارہا تھا تو اس وقت ایس بی سی اے کہاں تھا اور اس وقت بلڈر کو بکنگ کی اجازت کس نے دی، اب اسے غیر قانونی قرار دے کر گرایا جارہا ہے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ہمارے لاکھوں روپے ڈوب گئے عمارت گرانے سے پہلے یہ بتایا جائے کہ عمارت تعمیر کرنے کی این او سی کس افسر نے جاری کی اور اس کے خلاف کیا کارروائی کی جارہی ہے، ایک شہری نے بتایا کہ اس نے 70 لاکھ روپے میں فلیٹ کی بکنگ کرائی تھی اور 40 لاکھ روپے ادائیگی کر دی تھی جب یہ معلوم ہوا کہ عمارت گرائی جارہی ہے تو وہ یہاں پہنچا تو بکنگ آفس بند ہے اور بلڈنگ کا عملہ فرار ہے ایک متاثرہ شہری نے بتایا کہ اس نے بکنگ سے قبل تمام متعلقہ اداروں سے معلومات حاصل کی تھیں کہ یہ عمارت صحیح بن رہی ہے تو سب کا جواب ہاں میں تھا اس کے بعد انہوں نے اس پروجیکٹ میں بھاری سرمایہ کاری کی لیکن اب اس عمارت کو گرایا جارہا ہے، ہم انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے