حکومت سندھ نے ایس پی عمرکوٹ کا تبادلہ کرنے سے انکار کردیا اور جواب الیکشن کمیشن کو بھیج دیا گیا
ایس پی عمرکوٹ پی پی کے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں ملوث ہیں،الیکشن کمیشن کوخط کا متن
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت سندھ اورآئی جی سندھ کلیم امام میں عمرکوٹ کے ضمنی انتخاب کے معاملے پر ٹھن گئی ہے، حکومت سندھ نے ایس پی عمرکوٹ کا تبادلہ کرنے سے انکار کردیا ہے اور جواب الیکشن کمیشن کو بھیج دیا ہے۔ عمرکوٹ کے حلقہ پی ایس 52 پر ضمنی انتخاب 17 مارچ کو ہوگا،ضمنی انتخاب سے پہلے عمرکوٹ کے ایک شہری قربان نہڑی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ کے الزام عائد کیا تھا کہ ایس پی عمرکوٹ اعجاز شیخ اور ڈی سی عمرکوٹ ندیم میمن حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے قریبی ساتھی ہیں اور ایس پی عمرکوٹ پی پی کے مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں ملوث ہیں، انہوں نے کچھ عرصہ قبل نہڑی برادری کی عورتوں پر تشدد کروایا اور پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈرحلیم عادل شیخ پر ہونے والے حملے کا کیس بھی درج نہیں کیا، اس لیے ایس پی اعجاز شیخ اور ڈی سی ندیم میمن کی موجودگی میں ضمنی انتخاب شفاف نہیں ہوگا، شہری کے الزام پر الیکشن کمیشن نے آئی جی اور حکومت سندھ سے رپورٹ طلب کی، جس پر آئی جی پولیس نے ایس پی عمرکوٹ پر الزامات کی تصدیق کی اور اپنے جواب میںکہا کہ ایس پی عمرکوٹ اعجاز شیخ کئی کیسز میں نامزد ہیں۔ اس لیے اعجاز شیخ کا تبادلہ کیا جائے۔آئی جی سندھ پولیس کے جواب کے بعد حکومت سندھ نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کے ایس پی عمرکوٹ اعجاز شیخ کا تبادلہ کرنے سے انکار کردیا ہے اورموقف اختیار کیا ہے کہ آئی جی سندھ کے ایس پی پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں ، حکومت سندھ خود آئی جی پولیس کا تبادلہ کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔ حکومت سندھ نے لکھا کہ ڈی سی عمرکوٹ ندیم میمن بھی متنازع نہیں ہیں اور اپنی خدمات احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں،اس لیے دونوں افسران کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔

