English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جرمنی،کمرہ عدالت میں اسکارف پہننے پر پابندی برقرار

القمر

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمنی کی اعلیٰ ترین دستوری عدالت نے مراکشی نژاد جرمن خاتون وکیل کی کمرۂ عدالت میں اسکارف پہننے پر پابندی کو غیردستوری قرار دینے کی درخواست مسترد کر دی۔ جرمن ریاست ہیسے میں وکلا سمیت تمام عدالتی عملے پر پابندی ہے کہ کوئی کمرہ عدالت میں اسکارف نہ پہنیں۔ اس پابندی کے خلاف ایک خاتون نے جرمنی کی اعلیٰ ترین دستوری عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اس خاتون کا موقف تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے عائد کردہ یہ پابندی جرمن دستور سے متصادم ہے، تاہم دستوری عدالت نے اس کے برخلاف فیصلہ دیا۔ جرمنی کی اس اعلیٰ ترین عدالت کے مطابق کمرہ عدالت میں وکلا اور زیرتربیت افراد کو اسکارف پہننے سے روکنا غیرآئینی عمل نہیں ہے۔ مراکشی خاتون کا موقف تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے عائد کردہ اس پابندی کی وجہ سے اس کے ذاتی اظہار کے حق اور آزادی مذہب کے اصول کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ تاہم دستوری عدالت نے کہا کہ اسکارف نظریے اور مذہب کی علامت ہے، جب کہ جرمن دستور کے مطابق ریاست کو کسی نظریے یا مذہب کے اعتبار سے غیرجانب دار رہنا ہے، اس لیے ریاستی قانون ساز اسکارف پہننے پر پابندی عائد کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ریاست پابند ہے کہ وہ غیرجانب دار رہے، مگر ریاست غیرجانب دار نہیں رہ سکتی، اگر اس کے حکام خود کو غیرجانب دار ظاہر نہ کریں، کیوں کہ ریاست کی عکاسی افراد کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس معاملے پر جیوری میں فقط ایک جج الرش مائدوسکی نے اس فیصلے کے خلاف ووٹ دیا۔ مائدوسکی کا کہنا تھا کہ ان کی نگاہ میں آزادی مذہب کو دستوری قانون کے تحت جانچا نہیں جا سکتا۔
برلن: حجاب کی جنگ ہارنے والی مراکشی خاتون وکیل کمرہ عدالت سے جا رہی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے