استنبول: ترک صدر رجب طیب ایردوان نے یورپی ممالک کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ”مہاجرین کا بھاری بھر کم بوجھ اب آپ کو بھی برداشت کرنا پڑے گا”۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ترک صدرنےایوان تجارت کی زیرقیادت سماجی تنظیموں کےنمائندوں سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی یکجہتی ، اخوت واتحادکی بنیاد پر کھڑا ہےجس کی جانب اٹھنے والی ہرشر پسندنگاہ کو نکال دیا جائے گا۔ مہاجرین کی حالیہ صورت حال کے بارے میں ترک صدرنے یورپی ممالک کی عدم توجہ پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اب سرحدیں بند کرنے کیلئے متعدد سربراہوں کے فون آتے ہیں لیکن میں بتادوں کہ اب وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑاتے تھے،ہماری سرحدیں کھلی ہیں تاکہ مہاجرین کا یہ بھاری بھر کم بوجھ آپ بھی برداشت کریں۔
مزید پڑھئیے: یونانی سرحد پر تارکین وطن کو روکنے کے لیے حملے
انھوں نے مزید کہا کہ جمعرات وہ ماسکو میں روسی ہم منصب سے ملاقات کے دوران شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔
شام میں اسد انتظامیہ کے حملوں پر جوابی کاروائی کے حوالے سے ترک صدر کا کہنا تھا کہ “ہمارا انتقام جاری ہےجس کے نتیجے میں میں اب تک ہم نےاسدی فوج کےکئی طیارے اور ٹینک تباہ کردیے ہیں جبکہ فوج کو جانی نقصان بھی پہنچاہے، امید ہےکہ کارروائی جلدہی کامرانی سےانجام کوپہنچےتاکہ یہ بہتا لہو ُ رک جائے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ترکی سے یورپی بارڈ کھولے جانےکے بعد یونان کی سرحد پرتارکین وطن پرمقامی افراد اور پولیس نے مہاجرین کو روکنے کیلئے انہیں بارڈر پر آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کا نشانہ بنایا ۔

