اسلام آباد+لندن (اے پی پی +صباح نیوز+ آئی این پی)حکومت پاکستان نے لندن میں موجود سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بے دخل کرنے کے لیے خط بھجوادیا ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف علاج کروانے کے لیے کچھ ہفتے کی ضمانت لے کر بر طانیہ آئے تھے، وہ میڈیکل رپورٹس نہیں بھجواسکے لہٰذا انہیں ڈی پورٹ کیا جائے تاکہ وہ اپنی باقی سزا کو مکمل کر سکیں۔ خط وزارت خارجہ نے پنجاب حکومت کی سفارش اور مشاورت کے بعد برطانوی حکومت کو بھجوایا ہے۔ وفاقی حکومت نے خط کے ذریعے
نواز شریف کے کیس کے حوالے سے موجودہ صورتحال سے برطانوی حکومت کو آگاہ کیا ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی حکومت کو خط بھجوانے کی تصدیق کردی ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی برطانوی حکومت کو لکھے جانے والے خط کے متن سے آگاہ کیا گیا۔دوسری جانب شریف خاندان نے برطانوی حکومت کے خط کے معاملے پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے اور آئندہ چند دنوں میں اس سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کا بھی فیصلہ کر لیا ہے جبکہ دیگر آپشنز بھی زیر غور ہیں،نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے تمام مشاورت اور تیاری مکمل کر لی گئی ہے ۔شریف خاندان کے ذرائع کے مطابق اگر اسلام آباد ہائیکورٹ حکم دیتی ہے کہ نوازشریف واپس آجائیں تو وہ اگلی پرواز کے ذریعے ہی وطن واپس آجائیں گے ۔علاوہ ازیں منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ شہباز شریف کی چیخیں بتا رہی ہیں کہ خط برطانوی حکومت کو موصول ہوگیا ہے، نواز شریف حلف کی پاسداری کرتے ہوئے وطن واپس آئیں۔ ان کاکہنا تھاکہ105دنوں میں کسی اسپتال کی کوئی رپورٹ نہیں آئی، عوام کو سمجھ آگئی ہے کہ نواز شریف ذاتی ریلیف کے لیے باہر چلے گئے ۔فردوس عاشق اعوان نے یہ بھی کہا کہ نوازشریف اور شہباز شریف نے ذاتی مفاد کے لیے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کرکے ن لیگ کی کلچ پلیٹیں جام کردی ہیں۔ مزید برآں برطانیہ میں ممتاز ماہر قانون بیرسٹر راشد اسلم اوردیگر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ اگر پاکستانی حکومت نوازشریف کے معاملے پر قانونی تنازعے میں گئی تو اس پر 8ماہ سے ڈیڑھ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے ، یہ حکومتوں کے بجائے عدالتی عمل ہو جائے گا اور اس میں تمام قانونی تقاضے پورے کرنے پڑیں گے ۔انہوں نے کہا کہ لندن کی عدالتیں آسانی سے کسی کی حوالگی کا حکم نہیں دے سکتیں،ماتحت عدالتوں سے حکومت پاکستان کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد بھی اسے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جا سکے گا ۔
