کراچی (نمائندہ جسارت)سندھ کابینہ نے کورونا وائرس ٹیسٹنگ کٹس کی خریداری کے لیے 10کروڑ روپے جاری کرنے اور سندھ واٹر سروس ریگولیٹری اتھارٹی چیف سیکرٹری کے ماتحت قیام کی منظوری دی گئی جبکہ سندھ واٹر ریسورس کمیشن قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ منگل کو وزیراعلیٰ ہائوس میں صوبائی کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ کابینہ کے اجلاس میں چیف سیکرٹری ، تمام صوبائی وزرا ، مشیروں اور متعلقہ سیکرٹریز نے شرکت کی۔ کا بینہ اجلا س کے بعد سندھ اسمبلی کے کمیٹی رو م میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہو ئے سندھ کے وزیر اطلا عا ت و بلدیا ت ، ہاؤسنگ ٹاؤ ن پلا ننگ ، مذہبی امو ر اورجنگلا ت و جنگلی حیات سیدناصر حسین شاہ نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے لوگوں کو گھروں میں بھی آئسولیشن میں رکھا ہے بچوں کا اسکول جانا لازمی ہے جبکہ شاپنگ سینٹر جانا لازمی نہیں ہے، ایران سے آئے بچے اسکول جاتے تو پھر یہ مسئلہ سنگین ہوجاتا یہ ہی وجہ ہے کہ اسکول بند کیے ہیں، جو لوگ ایران سے آئے ہیں اور ان کی آئیسولیشن کے 13 مارچ کو 14 دن ہو جائیں گے پھر ہم 16مارچ کو اسکول کھول دیں گے۔اجلاس
کے ایجنڈے میں گندم کی خریداری کا پلان، دھابیجی اسپیشل اکنامک زون کے لیے زمین کی الاٹمنٹ، سندھ واٹر ایکٹ، پولیس وردی میں تبدیلی، یونیورسٹی آف خیرپور ایکٹ 2020ء کا ڈرافٹ بل، کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اقدامات ، جبکہ اضافی ایجنڈے میں قرنطینہ اور آئیسولیشن سینٹر کا قیام، ہدیہ کو اسٹامپ ڈیوٹی سے استثنا، ڈی-نوٹیفکیشن آف ایڈیشنل اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل، سندھ بورڈ آف فلم سینسر کے ممبران کے معاوضے اور تقرر شامل تھا ۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں کورونا وائرس پر سیکرٹری صحت نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ حکومت نے آگاہی، احتیاطی تدابیر، سندھ میں 9 آئسولیشن سینٹرز قائم کیے ہیں جن میں 118 بیڈز ہیں این آئی ایچ (وفاقی حکومت) اور آغا خان اسپتال میں ٹیسٹنگ کی سہولیات موجودہیں جبکہ سندھ حکومت نے 100 ملین روپے کورونا وائرس ایمرجنسی ریلیف فنڈ جاری کیا ہے۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ایران سے آنے والے2301 لوگوں کو شناخت کیا گیا ہے جبکہ 900 پاکستانی ابھی تک ایران میں ہیں ۔53 افراد کے ٹیسٹ کیے جس میں صرف 2 پازیٹو آئے ہیں۔ناصر حسین شاہ نے مزید بتایا کہ اجلاس میں وزیراعلی سندھ نے کابینہ کو کورونا وائرس پر بریف کیا اور کہا کہ چین سے آنے والے مسافروں کو 14 دن کی قرنطینہ کر کے پھر بھیجا جا رہا ہے۔کورونا وائرس کے ایشوز ٹیسٹ کرنے سے لے کر،مشکوک افراد کو آئسولیشن میں رکھنے اور انہیں علاج فراہم کرنے کی ذمے داری تفویض کی ہے اور ان کی حکومت انہیں کٹس اور دیگر ضروری آلات کی خریداری کے لیے 100 ملین روپے کی گرانٹ دے گی۔کابینہ نے 5000 ٹیسٹنگ کٹس کی خریداری کے لیے 100 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دے دی۔ سندھ واٹر ایکٹ 2020ء ڈرافٹ سندھ واٹر ایکٹ 2020ء لوکل گورنمنٹ نے کابینہ میں پیش کیا۔ یہ ایکٹ زیرزمین اور سطح پر موجود پانی کے تجارتی استعمال کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ سندھ واٹر سروس ریگولیٹری اتھارٹی چیف سیکرٹری کے ماتحت قیام کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں سندھ واٹر ریسورس کمیشن قائم کرنے کی بھی تجویز پر غور کیاگیا۔ کابینہ نے وزیراعلیٰ سندھ کے ماتحت سب کمیٹی بنا دی۔ اس کے اراکین میں چیف سیکرٹری، مشیر قانون، چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکرٹری آبپاشی، سیکرٹری پی ایچ ای اور سیکرٹری خزانہ شامل ہوں گے۔ کمیٹی مجوزہ قانون دیکھے گی اور اپنی سفارش دے گی۔ناصر شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ٹریکٹر اسکیم کے چوتھے مرحلے کیلیے نیب نے گائیڈ لائن دی جس کے تحت کابینہ نے منظوری دی ہے ۔صوبائی محکمہ خوراک نے کابینہ کو 20-2019ء کی فصل کے لیے گندم کی خریداری کے منصوبے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے 1365 روپے فی 40 کلوگرام امدادی رقم مقرر کی ہے۔ سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ وفاقی حکومت سے بات کرکے ایک جیسا ریٹ مقرر کیا جائے۔ 3 دن کے اندر ریٹ مقرر کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ سندھ کابینہ اجلاس نے پروکیورمنٹ کمیٹیوں کے قیام کی منظوری اور ریجنل کمیٹی، ضلع کمیٹی اور ڈی سیز کے تحت شکایات کے ازالے کی کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ پرائس فکسیشن کمیٹی ٹھٹھہ نے دھابیجی اکنامک زون کے زمین کی قیمت فی ایکڑ مارکیٹ ریٹ کے 25 فیصد پر منظوری دی۔سندھ کابینہ نے تفصیلی غور و خوص کے بعد 8 وائس چانسلرز کے میعادمیں توسیع کی منظوری دیدی۔جن میں آئی بی اے کے ناصر صدیقی، این ای ڈی یونیورسٹی کے ڈاکٹر سروش لودھی، جناح سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر طارق رفیع، مہران یونیورسٹی کے ڈاکٹر اسلم عقیلی، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی پروفیسر پروین شاہ،ایل یو ایم ایچ ایس جامشورو کیپروفیسر بیکھا رام، ڈائو یونیورسٹی کے ڈاکٹر فیض اللہ عباسی اور بی بی ایس یونیورسٹی خیرپور کے ڈاکٹر مدد علی شاہ شامل ہیں۔ یونیورسٹی اینڈ بورڈز نے میر پور خاص یونیورسٹی ایکٹ 2020ء کا ڈرافٹ بل پیش کیا جسے کابینہ نے تفصیلی غور و خوص کے بعد منظور کرلیا۔ کابینہ نے محکمہ قانون کو ڈرافٹ قانون سندھ اسمبلی میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ کابینہ نے تفصیلی غور و خوص کے بعد شیخ ایاز یونیورسٹی، شکارپور کے حدود کی منظور ی دی۔حدود کے تحت لاڑکانہ ڈویڑن کے تمام ڈگری کالجز کا شیخ ایاز یونیورسٹی کے ساتھ الحاق ہوگا۔لاڑکانہ ڈویڑن کے ڈگری کالجز /لا کالجز کا اس وقت شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کے ساتھ الحاق ہے جو کہ سکھر ڈویڑن میں واقع ہے۔ اب پبلک اور پرائیویٹ ڈگری کالجز /ادارے/لا کالجز جن کا شاہ عبداللطیف یونیورسٹی سے الحاق تھا انہیں اب شیخ ایاز یونیورسٹی شکار پور منتقل کردیاجائے گا۔ کابینہ نے تجویز کی منظوری دے دی۔ محکمہ ثقافت نے سندھ بورڈ آف فلم سینسر ز کے اراکین کو فلموں کی سینسرشپ کے لیے معاوضہ/فی دینے کا آئٹم پیش کیا۔کابینہ نے 12 مختلف کیٹیگریز بشمول فیچر فلم،فیچر پروڈیوس ایبروڈ،بیرونِ ملک سے فیچر فلم کی امپورٹ،کیبل ٹی وی کے لیے فیچر فلم سرٹیفکیشن، وڈیو کیسٹس/ ڈی وی ڈی و دیگر پر فیچر فلم اور اضافی عرصے کے لیے امپورٹ کرنے کے لیے سرٹیفکیشن کی تجدید شامل ہیں۔ سندھ کابینہ نے 2 ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور 4اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے ڈی۔ نوٹیفکیشن کی منظوری دی۔کابینہ نے دعوتِ ہدیہ کو گفٹ کی گئی املاک پر اسٹیمپ ڈیوٹی، رجسٹریشن فی اور ٹائون ٹیکس سے مستثنا قرار دیاہے۔
