نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی ہائی کمشنر نے بھارت کے متنازع شہریت قانون کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا ہے۔ اس پیش رفت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن جماعت کانگریس نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کمیشن کا اقدام اگرچہ بھارت کے داخلی معاملات میں غیر ضروری مداخلت ہے، تاہم اس افسوس ناک صورت حال کی ذمے دار خود مودی سرکار ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ بھارت سرکار نے ایک ایسا قانون بنا کر جو انسانی حقوق کے عالمی تقاضوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، خود ہی دوسروں کے لیے مداخلت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اسی طرح سابق وزیر خارجہ کنور نٹور سنگھ نے بھی اس پیش رفت کو بھارت کی سفارتی تاریخ میں ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مچل بیچلیٹ نے شہریت ترمیمی قانون ’’سی اے اے‘‘ کے خلاف عدالت عظمیٰ میں منگل کے روز ایک درخواست دائر کی ہے۔ یہ درخواست بھارت میں سی اے اے کے خلاف جاری احتجاج کے بعد دائر کی گئی ہے۔ احتجاجی مظاہروں میں درجنوں افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ سیکڑوں افراد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ حالات اس وقت انتہائی خراب ہوئے جب سی اے اے کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف 23 فروری کو بھارتی دارالحکومت میں بد ترین فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے، جن میں تقریباً 50 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ 300 سے زیادہ زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔عالمی ادارے نے عدالت عظمیٰ میں عرضی دائر کر کے شہریت ترمیمی قانون پر اعتراضات درج کرائے ہیں۔ بچلیٹ نے اپنی درخواست میں سی اے اے کے دائرے کو سنگین قرار دیا ہے۔
مودی سرکار نے بھارت کا مذاق بنادیا ،حزب اختلاف
القمر
