کورونا وائرس سے بچائو اور علاج کے حوالے سے غیر سائنسی علاج بھی ایک دوسرے کو شیئر کیا جارہا ہے
جب بھی کسی وبائی مرض کی لہر آتی ہے میسیج بغیر تصدیق کے آہستہ آہستہ پھیل جاتا ہے
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں تباہی مچانے والا کورونا وائرس دہشت کی علامت بن گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ سماجی رابطہ کی ویب سائٹس سوشل میڈیا پر کورونا وائرس سے بچائو اور علاج کے حوالے سے غیر سائنسی علاج بھی ایک دوسرے کو شیئر کیا جارہا ہے اور مختلف دیسی ٹوٹکے بھی بتائے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جب بھی کسی وبائی مرض کی لہر آتی ہے تو نیم حکیم خطرہ جان کی مثل کے مصداق لوگ غیر سائنسی اور غیر مستند علاج ایک دوسرے کو میسیج کے ذریعے بھیجتے ہیں جو بغیر تصدیق کے آہستہ آہستہ پھیل جاتا ہے جس سے براہ راست انسانی جانوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سول اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر خادم قریشی اور ڈاکٹر فرحان عیسیٰ کا کہنا تھا کہ دوائوں کا تعلق براہ راست انسانی جان سے ہوتا ہے ایسا کوئی نسخہ بالخصوص دوائوں اور علاج سے متعلق ہو آگے نہ بڑھائیں۔ ان ماہرین کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں سوشل میڈیا پر جاری کیے جانے والے دیسی ٹوٹکوں پر اکثریت عمل کرنا شروع کر دیتی ہے پھر ایسے افراد ان ٹوٹکوں کو دوسرے تک پہنچانا شروع کر دیتے ہیں جس سے انسانی صحت کو شدید نقصان ہونے کا احتمال رہتا ہے۔

