افغانطالبان نے امن معاہدے کے چار روز بعد ہی حملے شروع کردیے،واقعہ باغ شرکت میں پیش آیا
طالبان کی جانب سے افغان فوجیوں کیخلاف بھرپور کارروائی کا اعلان کیاگیاتھا،صوبائی ترجمان فاطمہ عزیز
کابل (مانیٹرنگ ڈیسک)طالبان نے امن معاہدے کے چار روز بعد ہی حملے شروع کر دیے، صوبہ قندوز میں20 افغان فوجی مار دیے جبکہ 10 کو یرغمال بنالیا۔افغان خبررساں ادارے نے صوبائی ترجمان فاطمہ عزیزکے حوالے سے بتایا ہے کہ واقعہ باغ شرکت میں پیش آیا جہاں افغان فوج کے اہلکارلقمہ اجل بن گئے۔یہ حملہ افغان طالبان اورامریکا میں جنگ بندی کے معاہدے کے محض چارروز بعد کیاگیا ہے۔پیرکو طالبان کی جانب سے افغان فوجیوں کیخلاف بھرپور کارروائی کا اعلان کیا گیا تھا۔ دوسری جانب گزشتہ شب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اورافغان طالبان کے رہنما ملا عبدالغنی برادرکے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ وائٹ ہائوس کے مطابق صدرٹرمپ اورطالبان لیڈر میں پینتیس منٹ تک بات چیت ہوئی جو مثبت رہی۔یاد رہے کہ امریکا اورطالبان کے درمیان معاہدے میں قیدیوں کی رہائی کی بات بھی شامل تھی تاہم افغان صدراشرف غنی قیدیوں کی رہائی کے معاملے پرمتفق نہیں ہیں اس لیے پیرکو طالبان نے افغان فوجیوں پر حملے بڑھانے کااعلان کیاتھا۔

