English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مودی انتہا پسند،عالمی برادری بھارت کے خلاف ہو گئی ، نعیم صدیقی

بھارت میں قومی انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے نئے شہریت قوانین سی اے اے کےخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس کے خلاف بی جے پی کا آئی ٹی سیل پروپیگنڈہ کر رہا ہے ساری دنیا بھارت کے متشدد ذہنیت کے مالک وزیر اعظم نریندر مودی کی بنیادی انسانی حقوق کے خلاف کی جانیوالی کاروائیوں کو شدید خطرہ اور امتیازی پالیسی قرار دے رہی ہے لیکن ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ بھارتی حکمران اپنے انتہا پسند حمایتیوں کے ساتھ مسلمانوں کیلئے زندگی عذاب بنا رہے ہیں،لوٹ مار، جلائو گھیرائو اور قتل و غارت عام ہے پولیس بھی بلوائیوں کے ساتھ تماشائی بن جاتی ہے یا ان کی مدد گار دکھائی دیتی ہے جس سے طاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں نہ تو جمہوریت ہے اور نہ ہی آئین و قانون کی حکمرانی ہے۔اس سچائی سے شاید ہیکوئی باشعور شخص انکار کرسکے کہ سی اے اے جیسا بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قانون واپس نہ لینے کی نریندر مودی اورامیت شاہ کی ہٹ دھرمی نے دنیا کے سامنے بھارت کا وحشت ناک اور انسانیت دشمن چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اس حقیقت کو بھارت کے دانشور بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بھارت کے موجودہ حکمران بالخصوص وزیراعظم مودی اور اور وزیر داخلہ امیت شاہ ساری دنیا میں بھارت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔اس سے بڑا لطیفہ اور تماشہ کیا ہوگا کہ شہریت کے نئے قانون کے تحت نریندر مودی بھی اپنی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ اسی ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے کہ آج یوروپین پارلیمنٹ سے لے کر انگلینڈ و ایران تک CAA کے حوالے سے مودی حکومت کی پالیسیوں پر کھلے عام تنقید کی جا رہی ہے اور اس کو ختم کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ اگر بھارت میں انتہا پسند سوچ کو شکست نہ دی گئی تو پھر بھارت کو بھی اپنی فکر کرنی چاہئے اور عالمی برادری کو بھارت پر بھی پابندیاں لگانی چاہئیں۔ جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھارت کے دورے پر آئے تھے تو نریندرمودی ان کی دوستی میںحد سے اتنے بڑھ گئے تھے کہ انہیں صدر ٹرمپ کی واپسی کے بعد بھی یہ معلوم نہ تھا کہ ہندو دہشت گرد ہولی سے پہلے ہی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں لیکن بھارتی دورے پر موجود ڈونلڈٹرمپ اور ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر امریکی انتظامیہ کوفوری طور پر خبرہوگئی اور امریکی کانگریس کی جانب سے اس پر شدید ناراضگی و غصے کا اظہار کیا گیا لیکن مودی کی بے حسی کا اندازہ کیا جائے کہ اسے کچھ معلوم نہ تھا بلکہ وہ ٹوئیٹر ٹوئیٹر کھیل رہا تھا۔بھارتی میڈیا نے مودی کو ٹرمپ اور امریکہ کی دوستی میںالجھا رکھا تھا اور فسادی دہلی میںمسلمانوں کی جان و مال اور املاک کو برباد کر رہے تھے۔، اسی طرح کی صورتحال اوبامہ کے دورے کے وقت بھی پیدا ہوئی تھی، دہلی کی گلیوں میں مسلمانوں کا جس بے دردی سے خون بہایا گیا۔املاک کو گاڑیوں کو دوکانوں کو اور گھروں کو جس بے دردی سے جلایا گیا۔اسے دیکھ اور سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔اگر بھارت کے حکمران دہلی کی خون آلود گلیوں محلوں اور جلی ہوئی مارکیٹوں میں صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے گئے بھی تو یہ دیکھنے کہ ان کے دہشت گردوں نے ان کے شیطانی منصوبے کے مطابق کام کیا یا نہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ خونی کھیل کھیلنے والا اورفساد کرانے والا شخص کپل مشرا بھی آج جیل میں ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا جس کی وجہ یہ ہے کہ ان دہشت گردوں نے پہلے ہی قتل و غارت گری کا منصوبہ بنا رکھا تھا، جس میں طاہر حسین نامی شخص کا نام تو موجود تھا، لیکن کپل مشرا کا نام نکال لیا گیا۔ بھارت میںقومی انسانی حقوق کمیشن کی صدر مشیل بچلیت کی جانب سے بھارت کی سپریم کورٹ میں دی گئی درخواست میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ مودی حکومت کےCAA کے موقف کے بالکل برخلاف ہیں۔ اس درخواست کے ذریعے سپریم کورٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ درخواست گزار کو اس بات کی اجازت دے کہ وہ کورٹ کے سامنے اس بات کو ثابت کرسکے کہ مودی حکومت کا CAA کا قانون کس طرح نہ صرف ہندوستان کی آئین بلکہ ان بین الاقوامی قوانین کے بھی خلاف ہے جس پر انڈیا کے بھی دستخط موجود ہیں۔ اس درخواست میں خاص طور سے یواین او کی قراردادوں کی بات کی گئی ہے جس کابھارت بھی ایک رکن ہے۔ بھارتی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی غلظی پر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ نہ صرف ڈٹے ہوئے ہیں بلکہ بھارت کے اندر رہنے والے مسلمانوں کیلئے زندگی کو آئے روز عذاب بنا رہے ہیں۔اس وقت مودی اور امیت شاہ کی قیادت میں بی جے پی کے انتہا پسند جو کچھ کر رہے ہیںاسے دیکھ کر پورا یورپ و ایشیا اب بھارت کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔ بھارت کے خلاف یورپین یونین کی اس قرارداد کو ساری دنیا جان چکی ہے، جوبھارتی مداخلت کے باعث وقتی طور پر رک گئی تھی لیکن بعد میں اس کے اراکین نے نریندر مودی حکومت کوCAA کے خلاف سخت قسم کی وارننگ دی ہے۔یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے ستر فیصداراکین کھلے عام بھارتی حکومت کوقصور وارکہہ رہے ہیں۔ ایران ایشیا میں بھارت کا سب سے بڑا حمایتی ہے لیکن اس نے بھی مودی حکومت پرا علانیہ تنقید کی ہے جسے ایران نے مسلمانوں کے قتل عام سے تعبیر کرتے ہوئے بھارت کو اس سے باز رہنے کی تاکید کی ہے ۔اوآئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن) مودی حکومت کی ہٹ دھرمی پر متحرک ہے۔ اس میں 85 مسلمان ممالک ہیں اس کیاراکین نے بھی بھارت کو سخت وارننگ دی ہے کہCAA کی بنیاد پر مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوگ،قتل و غارت گری اور جلائو گھیرائو ناقابل برداشت ہے۔ بھارت میں بیس کروڑ سے زائد مسلمان ہیں اس لیے بھارت کو مسلمانوں کے خلاف کسی بھی قسم کے امتیازی قوانین بنانے کی حماقت سے باز رہنا چاہئے۔ساری دنیا امن کی متلاشی ہے اور اس وقت پاکستان اور بھارت کیلئے سب سے برا چیلنج غربت و بیماری اور بے روزگاری ہے ہمیں ان کے خلاف جدوجہد کرنا ہے،لہذا لازم ہے کہ حکمران پاکستان کے ہوں یا بھارت کے وہ امن اور ترقی کو اپنا نصب العین بنائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے