English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پی ایس ایل افتتاحی تقریب بھارتی کمپنی کو کیوں دی؟ احسان مانی پر سوالات کی بوچھاڑ

القمر

شفقنا پاکستان :‌پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کو بتایا ہے کہ حکومت پاکستان سے ہمیں ایک روپیہ فنڈ بھی نہیں ملتا مگر گزشتہ سال 60 کروڑ روپے ٹیکس کی مد میں حکومت کو ادا کیے۔

آغا حسن بلوچ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی بھی شریک ہوئے۔

پی سی بی چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ اسپورٹس بورڈ سے متعلق اپنی سفارشات گزشتہ سال وزیراعظم کو دی تھیں، میرا کام صرف سفارشات بنانا تھا۔

اس پر سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ نے کہا کہ سفارشات پر عملدرآمد کے لیے وزیراعظم کے منتظر ہیں۔

اس دوران کمیٹی کے رکن رانا مبشر اقبال نے سوال کیا کہ ملک میں سارا پیسہ کرکٹ پر خرچ ہورہا ہے، رزلٹ کیا ہے؟ چیئرمین پی سی بی طویل عرصے بعد آئے ہیں، انہیں آج حوصلہ کرنا ہوگا اور احسان مانی کو پارلیمانی کمیٹی کو بھی وقت دینا چاہیے۔

پی سی بی چیئرمین کا کہنا تھا کہ میں دبئی میں تھا جہاں اپنی میٹنگ چھوڑ کر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آیا ہوں، دبئی واپس جانے کے لیے 4 لاکھ دوبارہ خرچ کرنے ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان سے ہمیں ایک روپیہ فنڈ بھی نہیں ملتا، پاکستان کرکٹ بورڈ کے سوا کوئی اور اسپورٹس باڈی ٹیکس ادا نہیں کرتی، گزشتہ سال 600 ملین ٹیکس کی مد میں حکومت کو ادا کیا۔

چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سال کسی انٹرنیشنل ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا تھا، 2 ارب روپے کراچی، لاہور اور راولپنڈی کے اسٹیڈیم پر خرچ کیے جبکہ اسٹیڈیمز کی حالت زار مزید بہتر بنانے کے لیے مزید ایک ارب روپےدرکار ہے اور موجودہ حالات میں پی سی بی کے پاس اسٹیڈیمز کے لیے فنڈز نہیں۔

احسان مانی نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ کرکٹ ایک طرف، اس کی براڈ کاسٹنگ کے لیے بھی غیر ملکی لانے پڑتے ہیں، ٹیم گیم اس وقت جیتے گی جب تک اسٹرکچر ٹھیک نہیں ہوگا، پاکستان میں کوالٹی کرکٹ نہیں، کوالٹی کرکٹ کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ سسٹم میں تبدیلی لائے ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں ارکان نے چیئرمین پی سی بی پر سوالات کی بوچھاڑ کردی اور اس دوران سابق کپتان سرفراز کو ٹیم سے نکالنے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔

دوران اجلاس کمیٹی کی رکن شاہدہ رحمانی نے سوال کیا کہ سرفراز احمد کو کیوں ٹیم سے باہر نکال دیا گیا؟

انہوں نے کہا کہ سندھ کے کرکٹرز کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے اور قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی زوال کا شکار ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کلین سوئپ شکست کے بعد سرفرازاحمد کو تینوں فارمیٹ کی کپتانی سےفارغ کردیا تھا۔

کمیٹی رکن علی زاہد نے سوال کیا کہ بتایا جائے پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب کا معاہدہ بھارتی کمپنی کو کیوں دیا گیا؟ بھارت کا بائیکاٹ ہے تو پی سی بی نے ایسا کیوں کیا؟

چیئرمین کرکٹ بورڈ احسان مانی کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب اس معیار کی نہیں تھی جس کی توقع تھی، افتتاحی تقریب کے لیے بڑے پیمانے پر مقامی کمپنی کے پاس صلاحیت نہیں تھی۔

پی سی بی حکام نے جواب میں کہا کہ پی ایس ایل افتتاحی تقریب کا معاہدہ پاکستانی کمپنی کےساتھ ہوا تھا، پی سی بی نے کسی بھارتی کمپنی کے ساتھ معاہدہ نہیں کیا۔

علاوہ ازیں وفاقی سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ علی شہزادہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کا کوئی والی وارث نہیں، وزارت کی افسر کو اضافی چارج دیا گیا اور 4 ماہ سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ آمنہ عمران کا کہنا تھا کہ نارووال اسپورٹس سٹی کو اسٹیٹ آف دی آرٹ بنایا گیا، ایک ڈبل روٹی کا ریٹ کہاں سے کہاں پہنچ گیا، ڈویلپمنٹ پروگرامز کا حال کیا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے