English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عالمی تنازعات میں اسلحہ کے سوداگروں کی چاندی

القمر

اسٹاک ہوم (انٹرنیشنل ڈیسک) اسلحہ کی عالمی تجارت پر نظر رکھنے والی تنظیم سپری کا کہنا ہے کہ تنازعات کے شکار مشرق وسطیٰ کے خطے میں اسلحہ کی ترسیل میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اسلحہ کی عالمی تجارت میں امریکا بدستور سرفہرست ہے۔ اسٹاک ہوم میں قائم اسلحہ کی عالمی تجارت پر نظر رکھنے والی تنظیم اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے پیر کے روز رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ رپورٹ گزشتہ 5 برسوں کے دوران اسلحہ کی فروخت کے رجحانات کا احاطہ کرتی ہے۔ 2015ء سے 2019ء کے اعداد وشمار کے مطابق بین الاقوامی اسلحہ کی تجارت میں اس سے گزشتہ 5 برس کے مقابلے میں 5 فیصد کا اضافہ ہوا، مگر 2005ء سے 2009ء کے عرصے کے مقابلے میں یہ اضافہ 20 فیصد بنتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 2015ء کے بعد کے 5 برسوں کے دوران ان سے گزشتہ 5 برسوں کے مقابلے میں مشرق وسطیٰ میں اسلحہ کی فروخت میں 61 فیصد اضافہ ہوا۔ دنیا بھر میں اسلحہ کی سب سے زیادہ فروخت بدستور امریکا ہی کر رہا ہے، جس کی اس عرصے کے دوران سعودی عرب کے لیے اسلحہ کی فروخت میں 23 فیصد اضافہ ہوا۔ امریکا سے اسلحہ کا دوسرا بڑا خریدار آسٹریلیا اور تیسرا متحدہ عرب امارات ہے۔ دنیا میں فروخت ہونے والے اسلحہ کا ایک تہائی امریکا فراہم کر رہا ہے۔ امریکا کے بعد اسلحہ فروخت کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک روس ہے۔ تاہم امریکا اور روس کے درمیان فروخت ہونے والے اسلحہ کی مالیت میں فرق بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ 5 برس کے دوران روسی اسلحہ کی فروخت میں 18 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ فرانس 2015ء سے 2019ء کے دوران اسلحہ کی فروخت میں خود کو تیسرے نمبر پر لے آیا ہے۔ اس سے قبل کے 5 برس کے مقابلے میں فرانس نے اس دوران اسلحہ کی برآمدات میں 72 فیصد کا اضافہ کیا۔ جرمنی کا نمبر اس فہرست میں چوتھا ہے۔ جرمن حکومت کہتی ہے کہ اس کی اسلحہ کی فروخت کی پالیسی بندشوں پر مبنی ہے، مگر پھر بھی مشرق وسطیٰ کے خطے میں جرمن اسلحہ کی ترسیل بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جو کئی پرتشدد تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ دنیا افراتفری کا شکار ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلحہ کی تجارت پھل پھول رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے