خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے قافلے کے قریب بم دھماکا ہوا، تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق عبداللہ حمدوک کے قافلے کو پیر کے روز خرطوم میں بیر پل کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں قافلے میں شامل کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، تاہم ان کی گاڑی معمولی متاثر ہوئی۔ وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کے قافلے پر مسلح افراد نے حملہ کیا، جس کے وہ فرار ہوگئے۔ دھماکے کے بعد افراتفری مچ گئی اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے، جب کہسیکورٹی حکام نے ملکی وزیراعظم کو اپنے حصار میں لے کر کسی محفوظ مقام پر پہنچا دیا ہے۔ کسی گروپ نے دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر وزیراعظم نے اپنی خیریت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ میں سوڈان کے عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ بالکل ٹھیک اور محفوظ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہتر مستقبل کے لیے اس انقلاب کی خاطر بھاری قیمت ادا کی ہے اور ہمارے انقلاب کو اس امن و امان کا محافظ ہونا چاہیے۔ عبداللہ حمدوک کو گزشتہ برس اگست میں حکومت سازی کے سمجھتے کے بعد عبوری وزیراعظم بنایا گیا تھا۔ وہ ماہر معاشیات ہیں۔ واضح رہے کہ 30 سال تک سوڈان کے صدر رہنے والے عمر البشیر کو طویل عوامی مظاہروں کے بعد گزشتہ برس فوج نے معزول کرکے حراست میں لے لیا تھا، تاہم سیاسی بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا۔ عوامی احتجاج اور مظاہرین کے خلاف فوج کا تشدد جاری رہا، یہاں تک کہ سول ملٹری قیادت نے مذاکرات کے نتیجے میں ایک سلامتی کونسل تشکیل دی، جس نے عبد اللہ حمدوک کو عبوری مدت کے لیے ملک کا وزیراعظم مقرر کیا ہے، جن کی کابینہ میں 6 شہری اور 5 فوجی افسر شامل ہیں۔
خرطوم: وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے زیراستعمال گاڑی کا اگلا حصہ بم دھماکے میں تباہ ہوگیا ہے
سوڈانی وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ بال بال بچ گئے
القمر
