English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اترپردیش ،حکومت کو مخالفین کی کردار کشی پر جھاڑ پڑگئی

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی الٰہ آباد ہائی کورٹ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران مخالفین کو تشدد میں ملوث قرار دے کر ریاستی حکومت کی جانب سے آویزاں کیے گئے ان کی تصاویر والے بڑے بڑے اشتہارات ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ ریاستی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ریاست اتر پردیش کے شہر الٰہ آباد کے ہائی کورٹ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی اقدام بھارتی آئین کی خلاف ورزی اور متعلقہ افراد کی نجی زندگی میں غیر ضروری مداخلت کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے لکھنؤ کے اہم چوراہوں پر آویزاں ہورڈنگز ہٹانے سے متعلق حکم پر پیش رفت کے حوالے سے بھی 16 مارچ تک رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ہائی کورٹ نے عوامی مقامات پر ہورڈنگز کے معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اتوار کے روز تعطیل ہونے کے باوجود کارروائی کی۔ چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس رمیش سنہا پر مشتمل بینچ نے بی جے پی کی ریاستی حکومت سے پوچھا کہ ایسا کس قانون کے تحت کیا گیا ہے؟ عدالت نے شہریوں کے حوالے سے اس طرح کا رویہ اپنانے پر یوگی حکومت پر تنقید بھی کی۔ لکھنؤ کی ضلعی انتظامیہ نے 5 مارچ کی رات 57 افراد کے نام، پتے اور تصاویر والے ہورڈنگ شہر کے مختلف چوراہوں پر لگائے تھیں۔ ان افراد سے 88 لاکھ روپے سے زیادہ بطور ہرجانہ وصول کرنے کی بات بھی کی گئی تھی اور مقررہ مدت کے اندر رقم ادا نہ کرنے پر ان کی املاک قرق کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پولیس نے 150 سے زائد افراد کے خلاف رپورٹ درج کی تھی۔ ابتدائی تفتیش کے بعد 57 افراد کو قصور وار قرار دیا گیا تھا اور ’’نیم اینڈ شیم‘‘ کے نام سے ان افراد کی تصاویر پر مشتمل ہورڈنگ نصب کیے گئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اشتہارات لگا کر ان افراد کو عوام میں شرمندہ کیا جانا چاہیے، جو مبینہ طور پر تشدد میں ملوث ہیں۔ ہورڈنگز میں جن 57 افراد کی تصویریں شائع کی گئیں، ان میں علامہ سیف عباس، سماجی کارکن وکانگریس رہنما صدف جعفر اور پولیس سروس کے سابق آفیسر ایس آر دارا پوری شامل تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے